31.5.11

آئین پاکستان میں قانون رسالت کیا ہے؟


آئین پاکستان میں قانون رسالت کیا ہے؟
 
  
  پالستان پینل کوڈp.p.c کے قانون۲۹۵ کے تین سیکشنز ہیں
A,B,C
اس میںسیکشن کے A  مطابق کسی مذہب یا کسی گروہ کے عقائد کو دانستہ برا بھلا کہنا جرم ہے۔ 
سیکشن کے B  مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی یا شہید کرنا اس سیکشن میں شامل ہے۔  
سیکشن کے C مطابق حضورﷺ کی شان میں گستاخی،یعنی توہین رسالت اس میں گستاخی شان میں  تحریری،تقریری سمیت تمام انداز شامل ہیں۔ 


قانون میں ہر سیکشن کے حوالے سے باقاعدہ علیحدہ علیحدہ سزا ئیں مقرر ہیں۔ جیسے سیکشن Aکے مطابق کسی کے مذہب یا مزہبی عقائد کو جان بوجھکر برا بھلا کہنے اور اس کے نتیجے میںلوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سزا دس سال قید با مشقت اور جرمانہ ہے۔جس کا تعین حالات کے مطابق اور دیگر شواہد کو مد نظررکھکر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید کی بے حرمتی، شہید کرنا یعنی سیکشنB میں قرآن پاک کی بے حرمتی خواہ کسی بھی انداز سے کی گئی ہو۔اس کے لیے عمر قید کی سزا رکھی گئی ہے
۔جبکہ سیکشن ۔Cکے مطابق نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی بھی انداز مین گستاخی پر ملزم کے لیے سزائے موت اور عمر قیدے علاوہ جرمانہ
 عائد کرنے کی سزا مقرر کی گئی ہے
 توہین رسالت سے بڑا دنیا میں کوئی فساد نہیں توہین رسالت ایکٹ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے نام نہاد دانشور فتنہ و فساد پھیلا رہے ہیں ، شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی سزا موت اللہ کی مقرر کردہ حد ہے جسے صدر، پارلیمنٹ یا کوئی اور معاف نہیں کر سکتا، توہین رسالت کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی سے حکمرانوں کو شئہ مل رہی ہے، توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو غازی علم دین شہید کا قانون چلے گا، تحریک حرمت رسول ﷺ پورے ملک میں جلسوں، مظاہروں اور حرمت رسول ﷺ کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رکھے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اہلسنت کے بزرگ اور ممتاز عالم دین مفتی محمد خان قادری کے دینی ادارہ جامعہ اسلامیہ میں تحریک حرمت رسول ﷺ کے اجلاس کے دوران کیا تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مفتی محمد خان قادری، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک ، ڈاکٹر حافظ محمد عاکف سعید ، علامہ احمد علی قصوری ، علامہ زبیر احمد ظہیر ، قاری محمد یعقوب شیخ ، جسٹس (ر)نذیر احمد غازی ، قاری محمد رفیق ، مرزا ایوب بیگ ، محمد خلیل الرحمن قادری ، ملک محبوب الرسول قادری ،مولانا محمد امین، الطاف حسین گوندل و دیگر نے شرکت کی اجلاس کے دوران مولانا امیر حمزہ کی طرف سے قرآن و سنت کی روشنی میں گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل کے حوالہ سے لکھا گیا مقالہ خصوصی پیش کیا گیا جس میں پیش کئے گئے شرعی دلائل کی تمام علمائے کرام اور قائدین نے تائید کی اجلاس کے دوران متفقہ طور پر قرار دیا گیا کہ تحفظ ناموس رسا لت کے قانون میں کسی طرح کی تبدیلی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا ہے اور پو ری امت اس پر متفق ہے اس موقع پر تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علمائے کرام نے شان رسالت میں گستاخی کو اللہ کی مقرر کردہ حد قرار دیا ہے اور حد کو کوئی بھی معاف نہیں کر سکتا آج تک جتنے بھی گستاخ آئے کوئی بھی اپنے انجام سے نہیں بچ سکابلکہ دنیا کے لئے عبرت بنا ہے عوام الناس میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے انہوں نے کہا توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے پوری پاکستانی قوم تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لئے کٹ مرنے کو تیار ہے جماعت اہلسنت کے بزرگ عالم دین مفتی محمد خان قادری نے کہاکہ اہل علم کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ اس جرم کے مرتکب کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت سے ہو برابری کی بنیاد پر سزا پائے گا اور کسی فسا د فی الارض کی اجازت نہیں دی جا سکتی سیاسی جماعتیں ا س مسئلہ پر جس قدر غفلت اور عدم توجہ کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لے کر اپنے حصے کا کردار ادا کریں ورنہ عوام میں ان کا داخلہ بند ہو جائے گاتنظیم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حافظ محمد عاکف سعید نے کہاکہ جن کی نیت میں کھوٹ نہیں ان طبقات کو 295 سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ قانون نا انصافی کا راستہ روکنے کا ضابطہ ہے اگر اس کو غیر موثر بنایا گیا تو پھر معاشرے میں غازی علم دین شہید کا قانون حرکت میں آجائے گا جسے کوئی نہیں روک سکے گا توہین رسالت ایکٹ کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہنے والے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے مرکز اہلسنت کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری نے کہاکہ نام نہاد غامدی جیسے دانشور فسادی ہیں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے سینے چھلنی کرنے پر فساد کا اطلاق ہوگا اقلیتوں کے حقوق کا جتنا تحفظ اسلام نے کیا اتنا کسی نے بھی نہیںکیا حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر علماءکو تمام چینلوں پر کردارادا کرنا ہوگا جسٹس(ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ 1994ءمیں لاہو ر ہائی کورٹ کا فل بینچ اس بات کا فیصلہ دے چکا ہے کہ توہین رسالت کا قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم نہیں ہے اور اس عدالتی فیصلے کو اب تک کسی نے چیلنچ نہیں کیا وفاقی شرعی عدالت نے توہین رسالت کی سزا موت سنائی ہے اب اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ میں جا کر اس فیصلے کو چیلنج کرے نہ کہ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑائے انہو ںنے کہا کہ ہماری حکومت توہین رسالت ایکٹ بدلنے کی پوزیشن میں نہیں سیاسی جماعتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے قادیانی لابی سازشوں کے ذریعے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے انہو ں نے کہا کہ حکومت کو مضبوط پیغام جانا چاہیے کہ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر امت مسلمہ متحد ہے توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم یا تبدیلی کی تمام سازشوںکو ناکام بنایا جائے گاتحریک حرمت رسول ﷺ کے چیف کوآرڈینیٹر قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ گستاخ رسول ﷺ کا اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا موت ہے اقرار جرم اور گواہی کے بعد کسی بھی قسم کی ترمیم کی گنجائش نہیں انہوںنے کہا کہ پادری بھی توہین رسالت کے قانون کو تسلیم کر رہے ہیں اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سزا نافذ کی جائے اگر حکومت ایسا نہیں کرے گی چور دروازے سے اغیار کی آشیر باد حاصل کرنے کیلئے گستاخوں کو معافی دی جائےگی تو پھر امن و امان قائم نہیں ہو سکتامرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ گستاخی رسول کی سزا موت ہے میڈیا پر اس کو مدلل بیان کیا جانا چاہئے تا کہ عوام کے ذہنوں میں ڈالے جانے والے اشکالات دور ہو سکیںانٹر نیشنل ختم نبوت کے قاری محمد رفیق نے کہا کہ جب حدود اللہ ثابت ہو جاتی ہے تو معافی کا اختیار کسی کو نہیں ملتا گستاخ رسول ﷺ کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی سزا موت ہے تو پاکستان میں نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا موت پر کیوں شور مچایا جا رہا ہے تنظیم اسلامی کے مرزا ایوب بیگ نے کہا کہ توہین رسالت ایکٹ میں تبدیلی یا ترمیم جذباتی لوگوں کو کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے اس سے گستاخیوں کو ایک فیشن بنا لیا جائے گا اگر عام جرائم کی سزا میں معافی نہیں ہے تو گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر اتنا واویلا کیوں کیا جا رہا ہے صفہ اسلامک سنٹر کے محمد امین نے کہا کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں سنت اور اجماع سے بھی دلائل پیش کرنے چاہئیں کہ اس مسئلہ پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں توہین رسالت ایکٹ میں تبدیلی یا ترمیم کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے آئینی ماہرین سے بھی رابطے کرنے ہوں گے دریں اثناءتحریک حرمت رسول ﷺ کے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہاگیا ہے کہ توہین رسالت ایکٹ کے مخالفین قادیانی اور قادیانی نواز ہیں جو مختلف حیلوں بہانوں سے اس قانون کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی عدلیہ کے سابق فیصلوں کو پیش نظر رکھا جائے کسی بھی قانون کو غلط استعمال کرنے والے کے لئے سزائیں موجود ہیں حتی کہ سزائے موت کے بعد بھی اگر ثابت ہو جائے کہ فیصلہ انصاف کے منافی تھا اور اس کا سبب جھوٹا مقدمہ تھا تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 194کے تحت جھوٹے مدعی کے لیے موت کی سزا متعین ہے اس لئے ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون کو غیر موثر بنانے کے تمام حیلے اور بہانے مسترد کیے جاتے ہیں ۔

29.5.11

امام مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ



سوانح حیات امام مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
اعلیٰ حضرت عظیم البرکتہ مجدد ماتہ حاضرہ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات گرامی تیرھویں صدی کی واحد شخصیت تھی جو ختم صدی سے پہلے علم و فضل کا آفتاب فضل و کمال ہو کر اسلام کی تبلیغ میں عرب و عجم پر چھا گئی اور چوہودیں صدی کے شروع ہی میں پورے عالم اسلام میں ان کو حق و صداقت کا منارئہ نور سمجھا جانے لگا۔ ملت اسلامیہ کو اعتراف ہے کہ اس فضل و کمال کی گہرائی اور اس علم راسخ کے کوہ بلند کو آج تک کوئی نہ پا سکا۔
پیدائش
اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ 10 شوال المکرم 1372ھ، مطابق 14 جون 1856ءہفتہ کے روز ہندوستان کے مشہور شہر بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ اور آپ کا پیدائشی اسم مبارک محمد رکھا گیا۔
علمی بصیرت
مولانا سید سلمان اشرف صاحب بہاری مرحوم مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالدین صاحب کو لے کر جب اس لئے حاضر خدمت ہوئے کہ ایشیا بھر میں ڈاکٹر صاحب ریاضی و فلسفہ میں فرسٹ کلاس کی ڈگری رکھتے ہوئے ایک مسئلہ حل کرنے میں زندگی کے قیمتی سال لگا کر بھی حل نہ کر پائے تھے، اور فیثا غورثی فلسفہ کشش ان پر چھایا ہوا تھا۔ تو اعلیٰ حضرت نے عصر و مغرب کی درمیانی مختصر مدت میں مسئلہ کا حل بھی قلم بند کرا دِیا فلسفہ کشش کی کھینچ تان کو بھی قلمبند فرما دیا جو رسالہ کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب حیران تھے کہ ان کو یورپ کا کو ئی تھیوریوں والا درس دے رہا ہے یا اس ملک کا کوئی حقیقت آشنا ان کو سبق پڑھا رہا ہے۔ انہوں نے اس صحبت کے تاثرات کو اجمالاً ان الفاظ میں ظاہر کیا تھا کہ ”اپنے ملک میں جب معقولات کا ایسا ایکسپرٹ موجود ہے توہم نے یورپ جا کر جو کچھ سیکھا اپنا وقت ضائع کیا۔“
اس ایک مثال سے آپ کے تبحر علم اور علمی بصیرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
علوم عقلیہ
یہ روز کامعمول تھا کہ فلکیات و ارضیات کے ماہرین اپنی علمی مشکلات کو لے کر آتے اور دم بھر میں حل فرما کر ان کو شاد شاد رخصت فرما دیتے۔یہ بھی دیکھا گیا کہ ماہرین فن نجوم آئے اور فنی دشواریوں کو پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے ہنستے ہوئے اس طرح جواب دے کر خوش کر دیا کہ گویا یہ دشواری اور اس کا حل پہلے سے فرمائے ہوئے تھے۔
محدث کچھو چھوی رحمتہ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ایک بار صدرا کہ مایہ ناز (مقامات) شکل حماری اور شکل عروسی کے بارے میں مجھ سے سوال فرما کر جب کتاب کی (وہی کےفیت؟) دیکھی تو اپنی تحقیق بیان فرمائی تو میں نے محسوس کیا کہ حماری کی حماریت بے پردہ ہو گئی اور عروسی کا عرس ختم ہو گیا۔ مسئلہ بخت و اتفاق شمس بازغہ کا سرمایہ تفلف ہے۔ مگر اس بارے میں اعلیٰ حضرت کے ارشادات جب مجھ کو ملے تو اقرار کرنا پڑا کہ ملا محمود اگر آج ہوتے تو اعلیٰ حضرت کی طرف رجوع کرنے کی حاجت محسوس کرتے۔ اعلیٰ حضرت نے کسی ایسے نظریے کو کبھی صحیح سلامت نہ رہنے دیا جو اسلامی تعلیمات سے متصادم رہ سکے اگر آپ وجود فلک کو جاننا چاہتے ہوں اور زمین و آسمان دونوں کا سکون سمجھنا چاہتے ہوں اور سیاروں کے بارے میں کل فی فلک یسبحون کو ذہن نشین کرنا چاہتے ہوں تو ان رسائل کا مطالعہ کریں جو اعلیٰ حضرت کے رشحات قلم ہیں اور یہ راز آپ پر ہر جگہ کھلتا جائے گا کہ منطق و فلسفہ و ریاضی والے اپنی راہ کے کسی موڑ پر کج رفتار ہو جاتے ہیں۔
افتاءکی خداداد عظیم صلاحیت
عادت کریمہ تھی کہ استفتاءایک ایک مفتی کو تقسیم فرما دیتے اور یہ صاحبان دن بھر محنت کر کے جوابات مرتب کرتے۔ پھر عصر و مغرب کی درمیانی مختصر ساعت میں ہر ایک سے پہلے استفتاء پھر فتویٰ سماعت فرماتے اور بیک وقت سب کی سنتے۔ اسی وقت مصنّفین بھی اپنی تصنیف دکھاتے اور زبانی سوال کرنے والوں کو بھی اجازت تھی کہ جو کہنا چاہیں کہیں اور جو سنانا ہو سنائیں۔ اتنی آوازوں میں اس قدر جداگانہ باتیں اور صرف ایک ذات کو سب کی طرف توجہ فرمانا جوابات کی تصحیح و تصدیق اور اصلاح، مصنّفین کی تائید و تصحیح اغلاط، زبانی سوالات کے تشفی بخش جوابات عطا ہو رہے ہیں اور فلسفیوں کی اس خبط لا یصدر عن الواحد الا الواحد (ایک ہستی سے ایک وقت میں ایک ہی چیز صادر ہو سکتی ہے) کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ جس ہنگامہ سوالات و جوابات میں بڑے بڑے اکابر علم و فن سر تھام کر چپ ہو جاتے ہیں کہ کس کس کی سنیں اور کس کس کی نہ سنیں، وہاں سب کی شنوائی ہوتی تھی اور سب کی اصلاح فرما دی جاتی تھی، یہاں تک کہ ادبی خطا پر بھی نظر پڑ جاتی تھی اور اس کو درست فرمادیا کرتے تھے۔
حیرت انگیز قوت حافظہ
یہ چیز روز پیش آتی تھی کہ تکمیل جواب کے لئے جزئیات فقہ کی تلاش میں جو لوگ تھک جاتے تو عرض کرتے۔ اسی وقت فرما دیتے کہ ردالمحتار جلد فلاں کے صفحہ فلاں کی سطر فلاں میں ان لفظوں کے ساتھ جزئیہ موجود ہے۔ درمختار کے فلاں صفحہ فلاں سطر پر یہ عبارت ہے۔ عالمگیری میں بقد جلد و صفحہ و سطر میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ ہندیہ میں خیر یہ میں، مبسوط میں، ایک ایک کتاب فقہ کی اصل عبارت بقید صفحہ و سطر یہ الفاظ موجود ہیں۔ ارشاد فرما دیتے۔ اب جو کتابوں میں جا کر دیکھتے ہیں تو صفحہ و سطر و عبارت وہی پاتے ہیں جو زبان اعلیٰ حضرت نے فرمایا تھا۔ اس کو آپ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ خداداد قوت حافظہ سے ساری چودہ سو برس کی کتابیں حفظ تھی ۔ یہ چیز بھی اپنی جگہ پر حیرت ناک ہے۔
حافظ قرآن کریم نے سالہا سال قرآن عظیم کو پڑھ کر حفظ کیا، روزانہ دوہرایا ایک ایک دن میں سو سو بار دیکھا، حافظ ہوا محراب سنانے کی تیاری میں سارا دن کاٹ دیا اور صرف ایک کتاب سے واسطہ رکھا۔ حفظ کے بعد سالہا سال مشغلہ رہا ہو سکتا ہے کہ حافظ کو تراویح میں لقمے کی حاجت نہ پڑی ہو۔ گو ایسا دیکھا نہیں گیا اور ہو سکتا ہے کہ حافظ صاحب کسی آیت قرآنیہ کو سن کر اتنا یاد رکھیں کہ ان کے پاس جو قرآن کریم ہے اس میں یہ آیہ کریمہ داہنی جانب ہے یا بائیں جانب ہے۔ گو یہ بھی بہت نادر چیز ہے مگر یہ تو عادتاً محال اور بالکل محال ہے کہ آیت قرآنیہ کے صفحہ و سطر کو بتایا جاسکے۔ تو کوئی بتائے کہ تمام کتب متداولہ و غیر متداولہ کے جملہ کو بقید صفحہ و سطر بتانے والا اور پورے اسلامی کتب خانے کا صرف حافظ ہی ہے یا وہ اعلیٰ کرامت کا نمونہ ربانیہ ہے جس کے بلند مقام کو بیان کرنے کے لئے اب تک ارباب لغت و اصطلاح الفاظ پانے سے عاجز رہے۔
علم قرآن
علم قرآن کا اندازہ صرف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمے سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میں ہے نہ فارسی میں اور نہ اردو میں اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جا سکتا۔ جو بظاہر ترجمہ ہے مگر درحقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں روح قرآن ہے۔ اس ترجمہ کی شرح حضرت صدر الافاضل استاذ العلماءمولانا نعیم الدین علیہ الرحمتہ نے حاشیہ پر لکھی ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ دوران شرح میں ایسا کئی بار ہوا کہ اعلیٰ حضرت کے استعمال کردہ لفظ کے مقام استنباط کی تلاش میں دن پر دن گذرے اور رات پر رات کٹتی رہی اور بالآخر ملا تو ترجمہ کا لفظ اٹل ہی نکلا۔اعلیٰ حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے۔ لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمہ کو دیکھ پاتے تو فرما ہی دیتے کہ: ترجمہ قرآن شے دےگرست و علم القرآن شے دےگر علم الحدیث و علم الرجال
علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے اس کی روایت و درایت کی خامیاں ہر وقت ازبر۔
علم الحدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماءالرجال کا ہے۔ اعلیٰ حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کی جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے تھے اٹھا کر دیکھا جاتا تو تقریب و تہذیب میں وہی لفظ مل جاتا تھا۔ اس کو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت۔
اعلیٰ حضرت نے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ بعض لوگو ں کا ایمان بالرسل بایں معنی نہیں ہے کہ رسول پاک سید المرسلین ہیں، خاتم النبین ہیں، شفیع المذنبین ہیں، اکرم الاولین و الآخرین ہیں، اعلم الخلق اجمعین ہیں، محبوب رب العالمین ہیں۔ بلکہ صرف بایں معنی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بڑے بھائی ہیں جو مر کر مٹی میں مل چکے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے بے اختیار اور عند اللہ بے و جاہت رہے۔ اگر ان کو بشر سے کم قرار دو تو تمہاری توحید زیادہ چمک دار ہو جائے گی۔ ان حقائق کو واضح کر دینے کا یہ مقدس نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں کی جمہوریت اسلامیہ کی بڑی اکثریت دامن رسول سے لپٹی ہوئی ہے اور دشمنان اسلام کے فریب سے بچ کر مجر موں کے منہ پر تھوک رہے ہیں۔
فجزاہ اللہ تعالی عنا و عن سائرا ہل السنتہ و الجماع خیر الجزاء
علم فقہ میں اعلیٰ حضرت کا مقام
آپ کے علم و فضل اور خاص کر علم فقہ میں تبحر کا اعتراف تو ان اہل علم نے بھی کیا ہے جنہیں مسلک و مشرب میں آپ سے اختلاف ہے۔ مثلاً: ملک غلام علی صاحب جو سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کے معاون ہیں اپنے ایک بیان میں جسے ہفت روزہ ”شہاب “ لاہور نے ۵۲ نومبر۲۶۹۱ءکی اشاعت میں درج کیا ہے لکھتے ہیں: ”حقیقت یہ کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے۔ اور عشق خدا و رسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹ پڑتا ہے۔“
اسی طرح اعظم گڑھ یوپی سے شائع ہونے والا ماہنامہ مجلہ ”معارف“ رقمطراز ہے: ” مولانا احمد رضا خاں صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبردست عالم، مصنف اور فقیہ تھے۔ انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں۔ قرآن عزیز کاسلیس ترجمہ بھی کیا ہے ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزارہا فتووں کے جوابات بھی انہوں نے دیے ہیں۔“ یہ آراء ان لوگوں کی ہیں جن سے مسلکی اختلافات ہیں۔ اور جو مسلک میں متحد ہیں ان کی آراء کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم چند کلمات علمائے ربانیین و عظمائے حرمین طیبین کے اس موقع پر عرض کر دینا فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔ اب تک تذکروں میں جن جن علماءکے نام پیش کئے گئے ہیں غالباً یہ نام ان سے جداگانہ ہیں:
(۱) شوافع کے مفتی اور امام، نقیب الاشراف اور شیخ الساد فی المدینہ المنورہ سیدی السید علوی بن السید احمد بافقیہ ارشاد فرماتے ہیں:
”افضل الفضلاءانبل النبلاء فخر السلف قدو الخلف الشیخ احمد رضا۔“
(۲) احناف کے مفتی و امام السید اسماعیل بن خلیل مدنی فرماتے ہیں۔
”شیخنا العلام المجرد شیخ الاساتذ علی الاطلاق الشیخ احمد رضا۔“
(۳) حنبلیوں کے امام و مفتی اور مسجد نبوی میں مدرس امام عبداللہ النابلسی الحنبلی ارشاد فرماتے ہیں۔
”العالم العامل الہمام الفاضل محرر المسائل و عویصات الا حکام و محکم بروج الادل بمزید اتقان و زیاد اجکام سےد الشیوخ و الفضلاءالکرام قاضی القاضا الشیخ احمد رضا خاں۔“
(۴) مالکی حضرات کے امام و مفتی، مدینہ میں دارالافتاءکے اعلیٰ نگران و حاکم سیدی احمد الجزائری ابن السید احمد المدنی ارشاد فرماتے ہیں۔
” علام الزمان و فرید الاوان و منبع العرفان و ملحظ النظار سید عدنان حضرت مولانا الشیخ احمد رضا خان۔“
یہ چار شہادتیں مفتیان مذاہب اربعہ، احناف، شوافع، حنابلہ اور مالکیین مدینہ منورہ کی ہیں۔چار ہی مذاہب اربعہ کے مفتیان کرام، علمائے عظام و مدرسین بیت اللہ الحرام مکہ مکرمہ کی پیش خدمت ہیں۔
(۱) حنفیوں کے امام و مفتی، علام الزمان مولانا سید عبداللہ بن مولانا السید عبدالرحمن السراج مفتی حنفیہ مکہ مکرمہ تحریر فرماتے ہیں۔
”العام الفہام الہمام والعمد الدراک الامام ملک العلماءالاعلام الشیخ احمد رضا خان۔“
(۲) مالکیین کے امام و قاضی و مفتی و مدرس مسجد حرام کے خاص الخاص مفتی حضرت سیدی امام محمد بن حسین المالکی مفتی و مدرس دیار حرمیہ ارقام فرماتے ہیں۔
” ونشرت اعلام الانتصار علی منبر الہدایہ فی جامع الافتخار وقامت تشبت فضائل منشیہا وتنص علی مناہل مصطفیہا وکیف لا وہو احمد المہتدین رضا لازالت شموس تحقیقاتہ المرضے طالع فی سماءالشعریع السمح المحمدی۔“
(۳) مفتی امام محدث علام مدرس بیت الحرام مکہ مکرمہ و امام شافعیہ سیدی محمد صالح مدرس مسجد حرام و امام شافعیہ ارقام فرماتے ہیں۔
”فنقول ابقاہ سامیاذری مجد مخدوم العزو السبعدر افلا علل الحبور واردا موارد السرور ماترنم بمدحہ مادح صدح بشکرہ صادہ۔“
(۴) مکہ مکرمہ کے حنابلہ کے مفتی و امام اور مدرس حضرت علامہ مولانا عبداللہ بن حمید مفتی حنابلہ بمکتہ المشرفہ فرماتے ہیں۔
”العالم المتحقق المدقق لا زالت شجر علمہ نامی علی ممر الزمان و ثمر علمہ مقبول لدی الملک الدیان الشیخ احمد رضا خان۔“
حرمین شریفین کے صرف چار چار علمائے کرام کی آراء یہاں پر درج کی گئی ہیں اور اختصار کے پیش نظر انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ورنہ ان کے علاوہ مصر و شام، عراق و یمن، الجزائر و نابلس، طرابلس و اردون وغیرہا ممالک عربیہ اسلامیہ کے فضلاء و علماءکے ایسے ہی خیالات متعدد مرتبہ شائع ہو چکے ہیں۔جب ہم آپ کی تحریرات و فتاویٰ کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ کام اس تعمق اور اس تیز رفتاری کے ساتھ کسی شخص واحد سے ممکن ہے؟
مثال کے طور پر 1323ھ کا واقعہ ہے مکہ مکرمہ برائے حج تشریف لے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ حج پر جانے والا اپنے ساتھ کتب فقہ و حدیث کا ذخیرہ تو نہیں لے جاتا فراغت حج کے ساتھ ہی ایک استفتاء جو پانچ سوالوں پر مشتمل تھا دیا جاتا ہے اور تقاضا یہ ہے کہ دو دن میں جواب مل جائے۔ جس کی مختصر کیفیت یہ تھی جو خود مصنف علیہ الرحمتہ نے بیان فرمائی۔
” میرے پاس بعض ہندیوں کی طرف سے پیر کے دن عصر کے وقت ۵۲ ذی الحجہ کو ایک سوال آیا --- میرے پاس کتابیں نہ تھیں اور مفتی حنفیہ سیدی صالح بن کمال کا کہنا یہ تھا کہ دو دن منگل و بدھ میں جواب مکمل ہو جائے۔ میں نے رب تبارک و تعالیٰ کی امداد و اعانت پر جواب صرف دو مجلسوں میں مکمل کیا جس میں سے مجلس اول تقریباً سات گھنٹے کی تھی اور دوسری مجلس ایک گھنٹے کی۔“
(ترجمہ الدولتہ المکیتہ)
اس استفتاءجو پانچ سوالوں پر مشتمل تھا اور جس کا جواب دو نشستوں میں جو تقریباً آٹھ گھنٹے پر حاوی تھیں تحریر کیا گیا یہ عربی زبان میں چار سو صفحات کی کتاب تھی جسے بنام تاریخی ”الدول المکی بالماد الغبی“ ۳۲-۳۱ سے موسوم فرمایا۔
اس مبارک کتاب میں جب کہ آپ کے پاس کو ئی کتاب موجود نہ تھی متعدد کتب و فتاویٰ کے حوالہ جات صفحہ وار بتائے ہیں اور محض اپنی یاداشت پر بتائے ہیں۔ یہ محض رب کریم کی وہ عنایت تھی جو وہ اپنے مقبول بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
تصنیفات و افتائ
امام اہلسنت قدس سرہ نے اپنی عمر کے آٹھویں سال میں بزبان عربی ”ہدایت النحو“ کی شرح تحریر فرمائی اور چودہ سال کی عمر سے مسلسل فقہ پر کام کیا جو اڑسٹھ سال کی عمر تک جاری رہا۔ ایک ہزار کے قریب ضخیم کتابیں اور رسائل یاد گار چھوڑے، جو موضوع کے اعتبار سے پچاس مختلف علوم و فنون پر محیط ہیں۔ یہ پچپن سال کا دور پوری تصانیف پر منقسم کیا جائے تو روزانہ کی اوسط تحریر ساڑھے تین جزو ہوتے ہیں جن کے چھپن صفحات بنتے ہیں۔فتاویٰ رضویہ ۲۱ جلدوں میں ہے جن میں سے چار جلدیں (کتاب الطہار سے کتاب الحج تک) طبع ہو چکی ہیں۔ آٹھ ابھی شائع نہیں ہو سکیں۔ پانچویں چھپ رہی ہے۔ فتاویٰ دیکھئے تو آپ کو ایک فقیہ کی فقاہت اور ایک مفتی کی شان افتاءکا اندازہ ہوگا۔
امام بریلوی کی شعر گوئی
کتنی عجیب بات ہے کہ ایسے امام الوقت مسند العصر کے پاس جس کو رات دن کے کم سے کم بیس گھنٹے میں صرف علم دین سے واسطہ ہو جس کے ایوان علم میں اپنے قلم دوات اور دینی کتا بوں کے سوا کچھ نہ ہو، جو عرب و عجم کا رہنما ہو، اس کو شعر کہنے کو کیا کہا جائے کسی سے شعر سننے کی فرصت کہاں سے ملتی ہے۔ مگر شان جامعیت میں کمی کیسے ہو اور مملکت شاعری میں برکت کہاں سے آئے اگر اعلیٰ حضرت کے قدم اس کو نہ نوازیں۔ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس رشک جناں سے سرفراز تھے اس کی طلب تو ہر عاشق کے لئے سرمایہ حیات ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت کے حمد و نعت کا ایک مجموعہ کئی حصوں میں شائع ہو چکا ہے جس کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں اور سننے والوں کو مستی عطا کرتا رہتا ہے۔
اعلیٰ حضرت کا لغزشوں سے محفوظ رہنا
علمائے دین کے اعلیٰ کارنامے چودہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں مگر لغزش علم و فلتت لسان سے بھی محفوظ رہنا یہ اپنے بس کی بات نہیں۔ زور قلم میں بکثرت تفرو پسندی میں آ گئے بعض تجدد پسندی پر اتر آئے۔ تصانیف میں خود آرائیاں بھی ملتی ہیں۔ لفظوں کے استعمال میں بھی بے احتیاطیاں ہو جاتی ہیں۔ قول حق کے لہجہ میں بھی بوئے حق نہیں ہے۔ حوالہ جات میں اصل کے بغیر نقل پر ہی قناعت کر لی گئی ہے لیکن ہم کو اور ہمارے ساتھ سارے علمائے عرب و عجم کو اعتراف ہے کہ یا حضرت شیخ محقق مولانا محمد عبد الحق محدث دہلوی، حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی، یا پھر اعلیٰ حضرت کی زبان و قلم نقطہ برابر خطا کرے اس کو ناممکن فرما دیا۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشائ۔ اس عنوان پر غور کرنا ہو تو فتاویٰ رضویہ کا گہرا مطالعہ کر ڈالئے۔
فقیہ اعظم کا ایک عظیم و جلیل حاشیہ جن چار مجلدات پر مشتمل ہے وہ حاشیہ امام ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتاویٰ ”ردالمحتار“ پر ہے۔ جسے آپ نے بنام ”جدالممتار“ موسوم فرمایا ہے۔ لیکن یہ بیش قیمت حاشیہ اسی ذخیرے میں پڑا ہے جو ابھی محروم اشاعت ہے۔
مولیٰ تعالیٰ کسی ایسے مرد جلیل کو پیدا فرما دے جو جملہ تصانیف مجدد اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ” مرکز اشاعت علوم امام احمد رضا “ قائم کرے اور آپ کے جواہر علمی کو جلوئہ طباعت دے۔ آمین!
وصال مبارک
آپ 25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ءجمعتہ المبارک کے دن عین اذان جمعہ کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

24.5.11

شھید ملت سید کفایت علی کافی مرادآبادی

شھید ملت سید کفایت علی کافی مرادآبادی


تاريخِ هند سے دل چسپي ركھنے والا هر شخص جانتا هے كه جنگ آزادي 1857ئ ميں علماے اهلِ سنت اور مشايخِ طريقت كا نهايت بنيادي كردار رها هے۔ بلكه اگر يه كها جائے تو كچھ مبالغه نه هوگا كه شمالي هند ميں انگريزوں كے خلاف مسلم راے عامه هموار كرنے اور پورے خطے ميں انقلاب كي فضا برپا كرنے كا بنيادي كام انھيں كي قيادت و سربراهي ميں هوا۔ ان مجاهدين ميں علامه فضلِ حق خير آبادي﴿م1278ھ﴾، مفتي صدر الدين خاں آزرده دهلوي ﴿م1285ئ﴾،مولانا سيد احمد الله شاه مدراسي ﴿م1274ھ 1858ئ﴾ ، مفتي عنايت احمد كاكوروي ﴿م1279ھ﴾، مولانا رحمت الله كيرانوي ﴿1308ھ﴾، مولانا فيض احمد بدايوني، مولانا ڈاكٹر وزير خاں اكبر آبادي ﴿م1289ھ 1873ئ﴾، مولانا وهاج الدين مراد آبادي ﴿م1274ھ 1858ئ﴾، مولانا رضا علي خاں بريلوي ﴿م1286ھ 1869ئ﴾، مولانا امام بخش صهبائي دهلوي ﴿م1273ھ 1857ئ﴾، مفتي مظهر كريم دريابادي، حكيم سعيد الله قادري ﴿1325ھ﴾ وغيره كے انقلابي كارنامے آب زر سے لكھنے كے قابل هيں اور شهيدِ جنگ آزادي حضرت مولانا مفتي سيد كفايت علي كافي مراد آبادي عليه الرحمۃ والرضوان كا نام اس فهرست ميں بهت نماياں نظر آتا هے۔

مختصر احوالِ زندگي:آپ كا نسبي تعلق نگينه، ضلع بجنور ﴿يو پي ﴾ كے ايك معزز خانواده سادات سے تھا۔ آپ نے مراد آباد كو اپنا وطن بنا ليا تھا۔ علماے بدايوں و بريلي سے علم حاصل كيا۔ بارهويں صدي كے مجدد حضرت شاه غلام علي نقش بندي دهلوي كے خليفه اور شاه عبد العزيز محدث دهلوي﴿متوفي 1239ھ 1824ئ﴾ كے شاگرد رشيد حضرت شاه ابو سعيد مجددي رام پوري ﴿م1250ھ﴾ سے علمِ حديث كي تكميل كي۔(1) علمِ طب مولانا رحمن علي مصنف تذكره علماے هند كے والد مولانا حكيم شير علي قادري سے حاصل كيا۔ مولانا كافي پر اپنے استاذ و مربي حضرت شاه ابو سعيد مجددي كي شخصيت كا گهرا اثر تھا۔ اسي وجه سے آپ كو علمِ حديث اور تصوف سے بے حد شغف تھا، اور رسولِ اكرم صلي الله عليه وسلم كي سيرت طيبه سے عشق كي حد تك لگاو تھا۔

شعر و شاعري:آپ قادر الكلام، پُر گو اور صاحبِ دل شاعر تھے۔ شيخ امام بخش ناسخ لكھنوي كے شاگرد شيخ مهدي علي خاں ذكي مراد آبادي ﴿م1281ھ 1864ئ﴾سے شعر و شاعري ميں اصلاح ليتے تھے۔(2)

عشقِ رسول ان كي غذاے روح اور قلب كا سامانِ تسكين تھا۔ اور سچي بات تو يه هے كه عشقِ رسول كے جذبات سے جب آپ كا دل مضطرب هوتا اور فراقِ حبيب ان كي روح كا سكون و قرار چھين ليتاتو ان كے جذباتِ دروں نعتيه اشعار كا روپ دھار ليتے، اور ان كے نازك احساسات كے سرچشموں سے عشقِ نبوي سے لب ريز منظوم آبشار جاري هو جاتے۔ ان كي نظر ميں نعتِ رسول سننا اور سنانا دونوں جهان كي سعادت مندي اور فيروز بختي كا سامان هے، اور نعتِ مصطفي ميں اپني زندگي كے گراں قدر اوقات صرف كرنے والا ٫٫سعيدِ دو جهاں ٬٬ هے۔ آپ خود فرماتے هيں

     هے سعيدِ دوجهاں وه جو كوئي ليل و نهار
                                                          
نعتِ اوصافِ رسول الله كا شاغل هوا
      بس آرزو يهي دلِ حسرت زده كي هے  
                                                                                                               سنتا رهے شمائل و اوصافِ مصطفي


اسي جذبه دروں اور سوداے عشق كي كرشمه سازي تھي كه آپ كا دل زيارتِ حرمين طيبين كے ليے تڑپتا تھا۔ آپ كے ديوان ٫٫ديوانِ كافي٬٬ ميں جا به جا زيارتِ ديارِ حبيب كا شوق اپني جلوه سامانياں بكھيرتا نظر آتا هے اور ان كا طائر تخيل حجازِ مقدس كي پاكيزه اور عطر بيز فضاو ں ميں مسلسل پرواز كے ساتھ اس تمنا كا برملا اظهار كرتا نظر آتا هے كه كاش ان كے جسدِ خاكي كے بھي دن پھريں اور اسے بھي اس رشكِ جنت ، سرزمين كي آبله پائي نصيب هو۔ الله تعاليٰ نے ان كي يه تمناے شوق بھي پوري فرمائي اور 1841ئ ميں زيارتِ حرمين شريفين كا موقع عنايت فرمايا۔ آپ نے اس سفر كے متعلق ايك مثنوي بھي تحرير فرمائي جو ٫٫تجملِ دربارِ رحمت بار٬٬ كے عنوان سے منشي عبد الرحمن شاكر ، مالك مطبع نظامي، كان پوركي كوشش اور اهتمام سے چھپ كر شائع هوئي۔

سركار كے سچے جا نشين خلفاے راشدين كي شان ميں بھي آپ كے اشعار ملتے هيں۔ بطورِ نمونه درجِ ذيل اشعار نذرِ قارئين هي

   

السلام اے چار يارانِ صفا، اركانِ ديں

مجمعِ جود و حيا، صدق و عدالت، السلام

ثنا خوانِ نبي هوں اور اصحابِ نبي، كافي

ابو بكر و عمر، عثماں علي سے مجھ كو الفت هے

مجھے الفت هے يارانِ نبي سے

ابو بكر و عمر، عثماں ، علي سے

محبت ان كي هے ايمان ميرا

ميں ان كا مدح خواں هوں جان وجي سے

نعت نبوي كے كچھ اور اشعار ملاحظه هوں   

بهارِ خلد هے روے محمد  شميمِ جاں فزا بوے محمد

دلِ وحشي هے زنجيريں تُڑاتا  بشوقِ يادِ گيسوے محمد

يا الٰهي حشر ميں خير الوريٰ كا ساتھ هو

رحمتِ عالم ، محمد مصطفي كا ساتھ هو

يا الٰهي، هے يهي دن رات ميري التجا

روزِ محشر، شافعِ روزِ جزا كا ساتھ هو

بعد مرنے كے بھي، كافي  كي هے يا رب يه دعا

دفترِ اشعارِ نعتِ مصطفي كا ساتھ هو(4)

آپ كي شاعري ميں شرعي احكام كي بھر پور پاس داري نظر آتي هے، اس ليے عاشقِ رسول اعليٰ حضرت امام احمد رضا قادري بريلوي عليه الرحمۃ والرضوان آپ كي شاعري كو پسند فرماتے تھے، اور اسے شوق سے سماعت فرماتے تھے۔ جب كه آپ عام شعرا كے اشعار قصداً سماعت نهيں كرتے تھے، كيوں كه وه عموماً شرعي نزاكتوں كي رعايت سے خالي هوتے هيں۔الملفوظ ميں هے:

٫٫سوا دو كے كلام كے كسي كا كلام ميں قصداً نهيں سنتا، مولانا كافي ﴿مراد آبادي﴾ اور حسن مياں مرحوم﴿يعني استاذِ زمن مولانا حسن رضا بريلوي﴾۔ ﴿ان دونوں كا﴾ كلام اول سے آخر تك شريعت كے دائرے ميں هے ۔ البته مولانا كافي كے يهاں لفظ٫٫راعنا٬٬ كا اطلاق جا به جا هے، اور يه شرعاً محض ناروا و بے جا هے۔ مولانا كو اس پر اطلاع نه هوئي، ورنه ضرور احتراز فرماتے۔ غرض هندي نعت گويوں ميں ان دو كا كلام ايسا هے، باقي اكثر ديكھا گيا كه قدم ڈگمگا جاتا هے، اور حقيقتاً نعت شريف لكھنا نهايت مشكل هے، جس كو لوگ آسان سمجھتے هيں، اس ميں تلوار كي دھار پر چلنا هے، اگر بڑھتا هے تو الوهيت ميں پهنچا جاتا هے، اور اگر كمي كرتا هے تو تنقيص هوتي هے۔ البته حمد آسان هے كه اس ميں راسته صاف هے، جتنا چاهے بڑھ سكتا هے۔ غرض حمد ميں ايك جانب اصلاً﴿بالكل﴾ حد نهيں، اور نعت شريف ميں دونوں جانب سخت حد بندي هے۔٬٬ (5)

اعليٰ حضرت امام احمد رضا قادري بريلوي عليه الرحمه شهيدِ حريت حضرت مولانا كافي عليه الرحمه كي نعتيه شاعري سے اس قدر متاثر تھے كه انھين سلطانِ نعت گوياں اور اپنے آپ كو ان كا وزير اعظم قرار ديتے هوئے تحديثِ نعمت كے طور پر لكھتے هيں

          مهكا هے مري بوے دهن سے عالم
                                                            
ياں نغمه شيريں نهيں تلخي سے بهم
           
كافي سلطانِ نعت گوياں هے رضا
                                                            ان شائ الله ميں وزيرِ اعظم(6)

كذب و تلبيس كا ايك بد ترين نمونه:مذكوره بالا رباعي ميں اعليٰ حضرت امام احمد رضا قادري بريلوي عليه الرحمۃ والرضوان، حضرت مولانا كافي عليه الرحمۃ والرضوان كي ميدانِ نعت گوئي ميں برتري كو تسليم كرتے هوئے اور ان كي بارگاه ميں عقيدتوں كا خراج پيش كرتے هوئے تحديثِ نعمت كے طور پر كهتے هيں:

٫٫ميري نعت گوئي كے چرچے چار دانگ عالم ميں هو رهے هيں اور پوري دنيا ميں اسے شهرت و مقبوليت حاصل هوئي هے، اس طرح ميرے دهن كي خوشبو سے ايك عالم مهكا هوا هے اور نعت كے نغمه شيريں ميں ذرا بھي تلخي كي آميزش نهيں هے۔ اے رضا حضرت كافي سلطانِ نعت گوياں هيں اور الله تعاليٰ كي مشيت سے نعت گوئي ميں ميں آپ كا وزير اعظم هوں۔٬٬

كس قدر صاف اور واضح انداز ميں حضرت كافي مراد آبادي عليه الرحمۃ والرضوان كي ميدانِ نعت گوئي ميں عظمتوں كا اعتراف كيا هے اور الله تعاليٰ نے اعليٰ حضرت كو نعت گوئي ميں جو كمال اور مهارت عطا كي هے اس كا اظهار كيا هے۔ قرآن كريم ميں ارشادِ رباني هے:٫٫وَاَمَّا بِنِع مَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّث ٬٬﴿الضحي:11﴾ اور اپنے پروردگار كي نعمت كا خوب چرچا كرو۔ اعليٰ حضرت كے پيشِ نظر يهي آيتِ كريمه هے۔

ليكن دجل و فريب اور كذب و افترا كي مجسم تصوير ديكھني هو تو معروف ديوبندي عالم مولانا خالد محمود﴿مانچسٹر، برطانيه﴾ كي كتاب٫٫مطالعه بريلويت٬٬ كا مطالعه كر لواور ديكھ لو كه معلم الملائكه كي وفادار ذريت نے كس طرح اس پاكيزه رباعي كا مفهوم مسخ كيا هے اور الله كے ولي، علامه اجل، امامِ اهلِ سنت اعليٰ حضرت عليه الرحمۃ والرضوان سے اپني اندھي دشمني كا كس طرح مظاهره كيا هے۔ الفاظ يه هيں:

٫٫مولانا احمد رضا خاں ان دنوں كن اميدوں سے تھے، اسے انھيں كي زبان ميں سنيے۔ شاعر تھے، بات اگل دي

كافي سلطانِ نعت گوياں هے رضا
ان شائ الله ميں وزيرِ اعظم

﴿سليس﴾ : اے رضا هم نعت خوانوں﴿بريلويوں﴾ كو حكومت كي سرپرستي كافي هے۔ ان شائ الله كسي نه كسي وقت ضرور وزيرِ اعظم بنوں گا۔

هم نے تاويل كرنے كي كوشش كي، هو سكتا هے شاعري كي وزارتِ عظميٰ مراد هو، مگر معلوم هوا كه شاعري ميں تو آپ اپنے آپ كو وزير نهيں، بادشاه سمجھتے تھے۔ جو شخص اپنے آپ كو بالفعل بادشاه سمجھتا هو وه وزارت كي تمنا كيسے كرے گا؟ پس ان شائ الله كے ساتھ جس وزارت كي اميد تھي وه شريف﴿مكه﴾ كي حمايت اور انگريزوں كي خدمت كے صلے ميں ملكي وزارت تھي۔٬٬(7)

كيا اس سے بڑھ كر اهل الله سے بغض و عداوت، كذب و افترا، دريده دهني اور دروغ بافي كي كوئي اور مثال هو سكتي هے۔ ليكن جس كا خدا جھوٹ بول سكتا هو اگر وه خود جھوٹ بولے تو اس سے اس كي كيا شكايت؟ مگر يه سننے كے بعد ايك مومن كي زبان سے ٫٫لعنۃ الله علي الكاذبين و المفترين٬٬ نكلنا ايك فطري بات هے۔

تصنيفات:آپ صاحبِ تصنيف بزرگ هيں۔ آپ كي تصانيف كا موضوع عموماً ذاتِ رسول، سيرتِ رسول، شمائلِ رسول اور ذكرِ رسول هوتا هے، جيسا كه آپ كي كتابوں سے واضح هے۔ درج ذيل كتابيں آپ كي يادگار هيں:

(1)بهارِ خلد: يه شمائل ترمذي شريف كا منظوم ترجمه هے(2)نسيمِ جنت (3)مجموعه چهل حديث مع تشريحِ منظوم (4)خيابانِ فردوس: يه كتاب شيخِ محقق مولانا عبد الحق محدث دهلوي عليه الرحمۃ والرضوان ﴿متوفي1052ھ﴾ كي كتاب٫٫ترغيبِ اهلِ سعادت٬٬كا منظوم ترجمه هے، كتاب كا موضوع فضائلِ درود شريف هے (5)تجملِ دربارِ رحمت بار: يه مثنوي سفرِ حرمين طيبين كے متعلق هے (6)مولودِ بهاريه (7)جذبه عشق: اس ميں ستونِ حنانه كا واقعه بڑے والهانه انداز ميں نظم كيا هے۔ (8)حليه شريف (9)وفات نامه، يه دونوں رسالے علاحده مستقل تصنيف نهيں هيں، بلكه آپ كي مذكوره بالا تصنيف بهارِ خلد سے ماخوذ هيں۔(10)اوقات نحو وصرف ۔(11)ديوانِ كافي ۔ (8)

اس فهرست سے صاف واضح هے كه آپ كي تقريباً سبھي تصنيفات منظوم هيں، جس سے اس حقيقت كا اندازه هوتا هے كه آپ كا طبعي ميلان نظم اور شعر و شاعري كي جانب زياده تھا۔

مولانا كافي شهيد عليه الرحمه كي علمي قابليت كے سلسله ميں مولانا عبد الغفور نساخ مو لف ٫٫سخن شعرا٬٬ فرماتے هيں كه مولانا كافي اپنے دور كے نعت گو شعرا ميں اپنا جواب نهيں ركھتے تھے۔ وه مستند عالمِ دين تھے۔ ان كا زياده تر وقت تصنيف و تاليف ميں گزرتا تھا۔ (9)

مولانا كافي اور تحريكِ آزادي 1857ئ
:مولانا كافي عليه الرحمه نے تحريكِ آزادي 1857ئ ميں بڑي سر گرمي كے ساتھ حصه ليا۔ آپ انگريزوں سے سخت نفرت كرتے تھے اور هندستان پر ان كے ظالمانه تسلط سے حد درجه بے زار، اور انھيں يهاں سے باهر كرنے كے ليے مناسب موقع كي تلاش ميں تھے۔ اسي ليے جب 1857ئ ميں انگريزوں كے خلاف تحريكِ حريت نمودار هوئي تو آپ ان كے خلاف ميدانِ عمل ميں اتر آئے اور اس انگريز مخالف جهاد ميں پيش پيش رهے۔ اسي ليے آپ كا شمار تحريكِ آزادي 1857ئ كے صفِ اول كے مجاهدين ميں هوتا هے۔

جب مراد آباد ميں انگريزوں كي حكومت ختم هوئي اور نواب مجد الدين عرف نواب مجو خاں كي زير سركردگي آزاد حكومت قائم هوئي تو آپ كو٫٫صدر شريعت٬٬ بنايا گيا۔ آپ كي عدالت ميں مقدمات كے فيصلے شرعي احكام كے مطابق هوتے تھے۔جناب امداد صابري صاحب كا بيان هے:

٫٫انگريز مراد آباد سے بھاگ كر نيني تال اور ميرٹھ چلے گئے۔ نواب مجو خاں حاكمِ مراد آباد مقرر هو گئے۔ عباس علي خاں بن اسعد علي خاں، هندي توپ خانه كے افسر معين هوئے اور مولوي كفايت علي صاحب٫٫صدر شريعت٬٬ بنائے گئے۔ انھوں نے عوام ميں جهادي روح پھونكي، شهر ميں هر جمعه كو بعدِ نماز انگريزوں كے خلاف وعظ فرماتے، جس كا بے حد اثر هوتا تھا۔٬٬

ڈسٹركٹ گزيٹر مراد آباد ميں هے:
٫٫مسلمانوں نے من حيث القوم ضلع بھر ميں برٹش گورنمنٹ سے اپني مخالفت كو نهايت صاف اور صريح طور پر ظاهر كيا هے۔ روهيل كھنڈ كے اضلاع كي طرح مراد آباد كے ضلع ميں غيرت مذهبي اور انگريزوں كي هر بات سے نفرت كے جذبات نے مسلمانوں كو عام بغاوت پر مشتعل كيا تھا۔٬ ٬(10)

نوابِ رام پور يوسف علي خاں انگريزوں كے دوست اور حامي تھے۔ جب مراد آباد ميںنواب رام پور كو بالا دستي حاصل هوئي تو مولانا كافي نے انگريزوں كے خلاف فتوي جهاد مرتب كيا۔ اس فتوے كي نقليں مختلف مقامات پر بھجوا كر اس كي خوب نشر و اشاعت كي، بلكه كچھ مقامات پر آپ خود تشريف لے گئے۔ آنوله ضلع بريلي ميں خاص اسي مقصد كے ليے ايك هفته سے زياده قيام رها۔

حكيم سعيد الله قادري بن حكيم عظيم الله ﴿متوفي1325ھ 1907ئ﴾ آنوله ضلع بريلي ميں تحريكِ آزادي كے خاص ركن اور حاكمِ آنوله نواب كلن خاں نبيره بخشي سردار خاں كے معاون اور حامي تھے اور انگريزوں كے سخت مخالف تھے۔ حكيم صاحب حضرت شاه آل بركات مارهروي عليه الرحمه سے سلسله قادريه ميں بيعت تھے اور حضرت شاه آل احمد اچھے مياں عليه الرحمه ﴿متوفي1362ھ﴾ كے خليفه شاه ميرن مياں بريلوي سے ان كے گهرے مراسم تھے۔ مولاناكافي عليه الرحمه اور حكيم سعيد الله صاحب هم سبق ساتھي تھے۔ مولانا كافي جب انگريزوں كے خلاف فتوي جهاد كي نقليں لے كر آنوله پهنچے تو ايك هفته تك حكيم صاحب هي كے مكان پر ان كا قيام رها۔ اس دوران جهاد كے موضوع پر مولانا كي تقريريں بھي هوئيں اور نواب مجدالدين عرف مجو خاں حاكمِ مراد آباد كا پيغام بھي نواب كلن خاں كو پهنچايا۔ اس كے بعد مولانا كافي، نواب خان بهادر خاں﴿نبيره حافظ رحمت خاں روهيله﴾ كے پاس بريلي تشريف لے گئے۔ (11)

جب مولانا كافي عليه الرحمۃ والرضوان آنوله سے بريلي پهنچے تو وهاں وطن كو انگريزوں اور انگريز نوازوں كي چيره دستيوں سے محفوظ ركھنے كے ليے نواب خان بهادر خاں اور امام المجاهدين مولانا سرفراز علي صاحب سے مشورے هوئے اور پھر جنرل بخت خاں كي ماتحتي ميں جو فوج بريلي سے دهلي جا رهي تھي اُسي فوج كے ساتھ آپ مراد آباد واپس هوئے۔ (12)

سيد محبوب حسين سبزواري مراد آبادي لكھتے هيں:

٫٫جس وقت مراد آباد ميں يه خبر مشهور هوئي كه بريلي چھاو ني كي هندستاني سپاه نے بغاوت كر دي هے اس خبر كے ملنے پر 29پلٹن مقيم مراد آباد نے بغاوت كر كے سركاري خزانه اور هتھيار لوٹ ليے۔ اس كے بعد شهر ميں هنگامه برپا هو گيا اور شهر كے عوام جو انگريز كي غلامي سے ناراض تھے تلواريں كھينچ كر فخر سے نعره لگاتے هوئے سڑكوں پر نكل پڑے اور انگريزوں پر حمله كرنا اور جگه جگه تلاش كرنا شروع كر ديا۔ علما حضرات بھي اپني درس گاهوں سے نكل كر عوام كے ساتھ جهاد ميں شريك هو گئے۔ انگريز اس هنگامے سے ڈر كر ميرٹھ اور نيني تال فرار هو گئے۔

حالات كے پيشِ نظر علما حضرات نے فوري انتظام كے ليے ايك جنگي مشاورتي كميٹي قائم كي جو شهر كا انتظام بھي كرے گي اور جنگ كے ليے وسائل و ذرائع بھي فراهم كرے گي۔ اس كميٹي كے ايك ركن مولوي سيد كفايت علي كافي تھے۔ اس كميٹي نے ضلع مراد آباد كے اندر اور باهر جهاد كے فتوے تقسيم كرائے، جن ميں انگريزوں كے خلاف مسلمانوں كو جهاد كا شرعي حكم ديا گيا تھا۔ اس غير منظم جهاد كو ناكام كرنے كے ليے نواب رام پور اور كچھ مقامي غداروں كا بهت بڑا هاتھ تھا۔ اس ناكامي كے نتيجے ميں مسلمانانِ مراد آباد كو بقول سر سيد احمدخاں جس تباهي و بربادي كا سامنا كرنا پڑا وه ناقابلِ بيان هے۔

اسي دوران 29پلٹن اور جوش ميں بھرے نوجوان عوام نے باهمي مشورے سے نواب مجد الدين خاں عرف مجو خاں كو حاكمِ مراد آباد مقرر كيا، اور عباس علي خاں كو افسر توپ خانه مقرر كيا، مگر توپيں موجود نهيں تھيں، اور مولوي سيد كفايت علي كافي كو ٫٫صدر شريعت٬٬ مقرر كيا۔ علما كے فتوے نے عوام ميں هر طرف آگ بھڑكا دي تھي۔ روهيل كھنڈ ميں مسلمانوں كي برهمي كا ايك خاص سبب يه بھي تھا كه مذهب ميں مداخلت هونے لگي تھي۔٬ ٬ (13)

31 مئي كو بريلي چھاو ني ميں بغاوت كے نتيجے ميں خان بهادر خاں روهيله نبيره حافظ رحمت خاں روهيله كو روهيل كھنڈ كا نواب بنايا گيا۔ اس كے بعد كے حالات بيان كرتے هوئے سيد محبوب حسين سبزواري مراد آبادي لكھتے هيں:

٫٫اسي دوران نواب خان بهادر خاں كو ايك خط مولوي سيد كفايت علي كافي كا مراد آباد كے متعلق ملا جس ميں نواب رام پور كي قوم دشمن سرگرميوں كا تفصيل سے ذكر تھا۔ نواب صاحب نے يه خط جنرل بخت خاں كو دكھايا اور نواب رام پور كي غدارانه حركتوں سے آگاه كيا اور مراد آباد ميں رام پور كي فوجي مداخلت سے جو حالات پيدا هو چكے تھے ان كے سد باب كي گفتگو كي۔ نواب صاحب﴿خان بهادر خاں روهيله﴾ نے جنرل بخت خاں كے مشورے سے محمد شفيع رسال دار كو مع رساله مراد آباد جا كر قيام كرنے كا مشوره ديا﴿اخبار الصناديد، از حكيم نجم الغني خاں رام پوري﴾ رسال دار محمد شفيع آنوله هوتے هوئے مراد آباد پهنچے اور خود اپنے مكان ميں قيام كيا اور اپنے رساله كو جهاں اس وقت انٹر كالج محله مغل پوره ميں واقع هے ، پڑاو ڈالنے كا حكم ديا۔ دورانِ قيام ، مراد آباد كے كچھ جوشيلے جوانوں كو اپنے ساتھ شامل كر كے اپنے رساله سے ﴿فوجي﴾ تربيت دلائي، اور نمبر 29پلٹن ، مقيم مراد آباد جو باغي هو گئي تھي، اس كو بھي اپنے ساتھ شامل كر ليا۔٬٬ (14)

انگريزوں كي طرف سے نواب رام پور يوسف علي خاں كو مراد آباد فتح كرنے كي اجازت مل چكي تھي اور اسي بنياد پر نواب يوسف علي خاں نے مراد آباد كي طرف پيش قدمي كي تھي۔ خان بهادر خاں حاكم روهيل كھنڈ كے ليے نواب رام پور كي مداخلت ناقابلِ برداشت تھي۔ مولانا كافي عليه الرحمه كے ذريعه خان بهادر خاں روهيله كو حالات كا پورا علم هو گيا تو نواب مجو خاں حاكم مراد آباد كي امداد كے ليے خان بهادر خاں نے جنرل بخت خاں كو اس بات پر آماده كر ليا كه وه دهلي جاتے هوئے مراد آباد كا معركه سر كر ليں۔ نواب رام پور كے اندر اتني طاقت نهيں تھي كه وه جنرل بخت خاں كي فوج سے مقابله كرے۔ اس ليے اس نے مراد آباد سے اپنا انتظام اٹھا ليا اور اپنے افسر واپس بلا كر ميدان خالي كر ديا۔ مگر جنرل بخت خاں جب 17 جون كو مراد آباد سے دهلي چلے گئے تو پھر نواب رام پور نے مداخلت كي اور 24 جون 1857ئ كو دوباره اپني فوج مراد آباد بھيج دي۔ اس مرتبه نواب مجو خاں كے ساتھ مصالحت كي راه اختيار كي جس كے نتيجے ميں وه رياست رام پور كي طرف سے سنبھل كے حاكم مقرر هو گئے۔ بعد ميں حالات ايسے رونما هوئے كه انگريزوں نے بے دردي كے ساتھ نواب مجو خاں كو بڑے اذيت ناك طريقے پر موت كے گھاٹ اتار ديا۔ (15)

سقوطِ مراد آباد اور مولانا كي گرفتاري: 25 اپريل 1858ئ كو جنرل مونس گوره فوج سے مراد آباد پر حمله آور هوا۔ نواب مجو خاں كي سركردگي ميں مجاهدين نے ڈٹ كر مقابله كيا اور مراد آباد كو انگريزوں سے بچانے كے ليے اپني جانيں لڑا ديں۔ نواب مجو خاں آخري وقت تك ايك مكان كي چھت پر بندوق چلاتے نظر آئے۔ سات هتھيار بند سپاهي ان كو گرفتار كرنے كے ليے بھيجے گئے، مگر وه گرفتار نه كر سكے، آخر وهيں انھيں گولي مار دي گئي اور انھوں نے جامِ شهادت نوش فرمايا۔

مراد آباد كے سقوط كے ساتھ هي تمام قائدين آزادي اور انقلابي ره نما منتشر هو گئے، جو حكومت كے هاتھ پڑے وه تخته دار پر چڑھا ديے گئے، يا حبس دوام به عبورِ درياے شور كي سزا سنائي گئي۔ (16)

اس جنگ آزادي كي ناكامي كے دو بهت پرانے اسباب تھے: اول يه كه كوئي مركزي تنظيم نهيں تھي جو جنگ پر قابو پاتي، دوسرے،جنگ كو ناكام بنانے كے ليے مقامي غدار بهت هي كوشاں تھے۔ ان هي وجوهات كي بنا پر مجاهدين كو زبردست جاني و مالي نقصان اٹھاناپڑا۔ ان غداروں كي مدد سے انگريز دوباره 24 اپريل1858ئ كو شهر مراد آباد اور اس كے مضافات پر قابض هو گئے اور پھر عيسائي تهذيب كا وه ننگا ناچ شروع هوا جس كو تاريخِ عالم كبھي فراموش نهيں كر سكتي۔ ع:

جسے ديكھا حاكمِ وقت نے، كها يه بھي قابلِ دار هے

اس وقت انگريزوں نے غداروں كو ايك اور لالچ يه دے ركھا تھا كه جو شخص كسي بھي مجاهد كو گرفتار كرائے گا اور پھانسي دلوائے گا، اس كي جائدا كا بڑا حصه اس غدار كو دے ديا جائے گا۔ اس لالچ كا نتيجه يه نكلا كه كوئي مجاهد ايسا نهيں بچا جس كو غداروں نے گرفتار كروا كے پھانسي نه دلوا دي هو۔ جتنے بھي ساهو صاحبان هيں يه اسي غداري كي پيداوار هيں۔ مولانا سيد كفايت علي كافي كو بھي ايك كمينه صفت انسان نے شهيد كرايا، پهلے مولانا وهاج الدين عرف منو كو شهيد كرايا، پھر مولانا سيد كفايت علي كافي صاحب ك و ۔ اس غدارِ قوم و وطن كا نام فخر الدين كلال تھا۔﴿اخبار الصناديد از حكيم نجم الغني خاں رام پوري﴾

مولانا كافي جنگ كے بعداپنے مكان ميں روپوش تھے كه اس ظالم نے مخبري كر كے گرفتار كرايا۔ اس نمك حرام نے انگريز كلكٹر سے جا كر مخبري كي اور اس شرط پر گرفتار كرانے كا وعده كيا كه انعام ميں مولانا كي تمام جائداد اس كو دے دي جائے گي۔ يه وعده لے كر وه انگريزي فوج كے دسته كے همراه مولانا كافي عليه الرحمه كے مكان پر پهنچ كر آواز دي۔ ملازم نے مولانا صاحب سے اجازت لے كر دروازه كھول ديا۔ فوج كے جوان اندر داخل هو ئے۔ آپ تخت پر تشريف فرما تھے، اسي حالت ميں فوجيوں نے انھيں گرفتار كر ليا۔ گرفتاري كے بعد اس غدار كو آپ كي جائداد ميں سے ايك بڑا حصه دے ديا گيا اور اس كا نام انگريز كے وفاداروں كي كتاب ميں درج كر ليا گيا۔

گرفتاري كے بعد فوري مقدمه كي كارروائي شروع هو گئي۔ اس وقت انگريزوں كي كچهري كا يه عالم تھا كه كوئي ملزم كے بيان كو جس طرح چاهے تحرير كر دے، ملزم كو بيان ديكھنے يا وكيل كرنے كا كوئي حق نهيں هوتا تھا اور نه هي صفائي پيش كرنے كي كوئي اجازت هوتي تھي۔ اس وقت انگريزوں نے ايك كميشن قائم كيا تھا جو مقدمات كي سماعت كرتا تھا اور جج صاحبان بھي اكثريتي طبقه كے وه لوگ تھے جو ملك اور قوم سے غداري كر رهے تھے۔4 مئي1858ئ كو اس ظالم و جابر انگريز مجسٹريٹ كے رو برومولانا كافي كا مقدمه پيش هوا اور بهت جلد هي فيصله سنا ديا گيا۔﴿اخبار الصناديد﴾

مقدمه كي پوري تفصيل درج ذيل هے:

روداد مقدمه مولانا سيد كفايت علي4 مئي1858ئ: مقدمه مسٹر جان انگلسن مجسٹريٹ كميشن واقع 4 مئي 1858ئ

سركاري مدعي بنام مولوي كفايت علي كافي

فيصله عدالت كميشن چوں كه اس مدعا عليه ملزم نے انگريزي حكومت كے خلاف بغاوت كي اور عوام كو قانوني حكومت كے خلاف ورغلايا اور شهر ميں لوٹ مار كي۔ ملزم كا يه فعل صريح بغاوتِ انگريزي سركار هوا، جس كي پاداش ميں ملزم كو سزاے كامل دي جائے


حكم هوا مدعا عليه پھانسي سے جان سے ماراجائے۔
 ٬٬                                                                                                        فقط :
             دستخط انگريزي
               ﴿جان انگلسن﴾
                مئي 1858ئ

مقدمه كي پوري كارروائي صرف دو دن ميں پوري كر دي گئي۔ 4 مئي كو مقدمه مجسٹريٹ كے رو برو پيش هوا اور 6 مئي كو حكم لگا ديا گيا ۔(17)

شهادت: 16 رمضان1274ھ مطابق30 اپريل 1858ئ كو مولانا كافي عليه الرحمه گرفتار هوئے، ان پر انگريزي حكومت كي بغاوت كے تعلق سے مختلف الزامات عائد كيے گئے۔ سرسري اور نمائشي كارروائي، ضابطه كي خانه پري كے ليے هوئي، اس كے بعد اذيت ناك سزا اور پھانسي كا حكم صادر هوا۔ مولانا كافي عليه الرحمه نے جيسے هي حكم سنا، نهايت خوشي كا اظهار فرمايا۔ سزائيں شروع هوئيں، جسم پر گرم گرم لوها﴿استري﴾ پھيري گئي، زخموں پر نمك مرچ چھڑكا گيا۔ اسلام سے برگشته كرنے كے ليے هر طرح كا حربه استعمال كيا گيا، مگر آپ ان اذيت ناك سزاو ں كو خنده پيشاني كے ساتھ جھيلتے رهے ، صبر و شكر سے كام ليتے رهے اور اس نازك موقع پر بھي آپ كے پاے استقلال ميں ذره برابر لغزش نه آئي۔ جب اس مردِ مجاهد سے انگريز مايوس هو گئے تو انھوں نے اپني سزاو ں كے تركش كا آخري تير نكالا اور برسرِ عام جيل كے سامنے چوك مراد آباد ميں اس عاشقِ رسول مردِ مجاهد كو تخته دار پر لٹكا ديا ۔ جب آپ كو سولي دينے كے ليے تخته دار كي جانب لے جايا گيا تو آپ كي زبان پر ايك تازه نعتيه غزل تھي جسے بڑے ترنم اور وجد و شوق سے بلند آواز ميں پڑھ رهے تھے۔ وه نعتيه غزل يه هے

     

  
       
       

دفن كے سلسلے ميں عوام كے درميان مختلف روايات گردش كرتي هيں۔ ايك روايت حضرت مولانا محمد عمر صاحب نعيمي كے بيان كے مطابق يه هے كه مولانا كافي شهيد عليه الرحمه كا جسمِ اطهر قبر سے نكال كر دوسري جگه منتقل كيا گيا۔ يه واقعه مولانا محمد عمر صاحب نعيمي كے مطابق مولانا كافي عليه الرحمه كي شهادت كے تقريباً 30 سال بعد كا هے كه قبر كسي وجه سے كھل گئي تھي تو ديكھا كه حضرت مولانا كافي شهيد عليه الرحمه كا جسم اطهر شهادت كے وقت جيسا تھا ويسا هي موجود هے۔ حشرات الارض سے كوئي نقصان نهيں پهنچا تھا۔ جسمِ اطهر كے محفوظ هونے كي خبر سن كر عوام كا بهت بڑا مجمع ديكھنے كے ليے جمع هو گيا۔ مولانا محمد عمر نعيمي صاحب فرماتے هيں كه ان كے نانا شيخ كرامت علي ٹھيكے دار نے جسمِ اطهر كو جيل خانه كے پيچھے دفن كر ديا۔

اور اسي واقعه كي دوسري شهادت جناب مولانا سيدظفر الدين احمد مرحوم بن حضرت مولانا سيد نعيم الدين صاحب مراد آبادي كي هے۔ وه بيان كرتے هيں كه ايك سڑك اس مقام سے نكالي جا رهي تھي، جهاں حضرت مولانا كافي عليه الرحمه كا مزار تھا اور مزار كا نشان نماياں نهيں تھا۔ مزدور كھدائي كا كام كر رهے تھے كه آپ كي قبر كھل گئي اور مزدوروں كا پھاو ڑا مولانا كافي عليه الرحمه كي پنڈلي پر لگا۔ جسمِ اطهر اسي طرح تر و تازه تھا جيسا شهادت كے وقت تھا۔ بڑے بوڑھے لوگوں نے چهره مبارك ديكھ كر شناخت كر ليا اور بھاري تعداد ميں لوگ زيارت كرنے دوڑ پڑے۔ مزدوروں نے انجينيرسے بيان كيا۔ انجينيرخود آيا اور ميت كو صحيح سلامت ديكھ كر ڈر گيا اور عوام كو هٹا كر بڑے احترام كے ساتھ قبر پر دوباره تخته وغيره لگوا كر بالكل ٹھيك كر ا ديا اور سڑك كا رخ تبديل كر ديا جس كي وجه سے آج بھي اس مقام پر سڑك كچھ ٹيڑھي هے۔ جسم كسي دوسري جگه منتقل نهيں هوا۔

مراد آباد كے لوگ مولانا سيد ظفر الدين نعيمي مراد آبادي كے بيان سے زياده اتفاق كرتے هيں، اور اس بيان كو مولانا امداد صابري دهلوي صاحب نے بھي اپني كتاب ٫٫شهيدانِ وطن مراد آباد٬٬ ميں تحرير كيا هے ۔(19)

حواشي اور حوالے

(1) شاه ابو سعيد مجددي رام پوري:
آپ كي ولادت 2 ذي قعده1196ھ 1781ئ كو رام پور ميں هوئي۔ والد كا نام حضرت شاه صفي القدر تھا۔ آپ حضرت امام رباني مجدد الف ثاني كي نسل سے هيں۔ گياره برس كي عمر ميں قرآن مجيد حفظ كر ليا۔ علومِ عقليه و نقليه مولانا شرف الدين رام پوري مفتيِ عدالت رام پور، اور شاه رفيع الدين دهلوي سے حاصل كيے۔ حضرت شاه عبد العزيز محدث دهلوي سے سندِ حديث حاصل كي۔ اپنے والد ماجد سے سلسله نقش بنديه مجدديه ميں بيعت هوئے۔ پھر والد ماجد كے اشارے پر حضرت شاه درگاهي رام پوري﴿متوفي1226ھ 1811ئ ﴾ سے طريقه قادريت ميں بيعت كي۔باره سال مسلسل ان كي خدمت ميں حاضر رهے اور اجازت و خلافت سے سرفراز هوئے۔1225ھ ميں دهلي ميں بارهويں صدي كے مجدد حضرت شاه غلام علي دهلوي﴿متوفي1240ھ﴾ كي بارگاه ميں حاضر هوئے۔ چند ماه ميں سلوكِ مجددي كي تكميل كر كے سلسله نقش بنديه مجدديه كي خلافت سے بهره ور هوئے۔ شيخ و مرشد هونے كے باوجود شاه غلام علي دهلوي عليه الرحمه آپ كي بڑي قدر كرتے، يهاں تك كه جب كبھي آپ سفر سے واپس آتے تو شاه صاحب استقبال كے ليے باهر نكلتے۔ جب شاه غلام علي صاحب بيمار هوئے تو آپ كو لكھنو سے بلا كر خانقاه كي خدمت سپرد كي۔1249ھ ميں حج و زيارت سے شادكام هوئے۔ عيد الفطر كے دن1250ھ بروز يك شنبه عصر و مغرب كے درميان ٹونك ميں وصال هوا۔ لاش تابوت ميں ركھ كر دهلي لائي گئي اور چاليس روز بعد حضرت شاه غلام علي دهلوي قدس سره كے پهلو ميں دفن هوئے۔ آپ كے دونوں فرزند شاه احمد سعيد مجددي اور شاه عبد الغني مجددي علومِ ظاهر و باطن سے آراسته هو كر امام و مقتدا هوئے۔

﴿تذكره علماے اهلِ سنت، از: مولانامحمود احمد قادري،ص:19 20، مطبوعه سني دار الاشاعت علويه رضويه، فيصل آباد، پاكستان، 1992ئ﴾

(2) شيخ مهدي علي خاں ذكي مراد آبادي، اردو كے مشهور ترين شاعر شيخ امام بخش ناسخ لكھنوي كے شاگرد تھے، لكھنو اور رام پور كے درباروں سے وابسته رهے۔ لكھنو سے ٫٫ملك الشعرا٬٬ كا خطاب ملا تھا ۔ اپنے دور كے نام ور شعرا ميں شمار كيے جاتے تھے۔ مراد آباد ميں آپ كے چار شاگرد تھے:(1)مولانا سيد كفايت علي كافي (2)مولوي محمد حسين تمنا (3)مولانا معين الدين نزهت والد ماجد حضرت صدر الافاضل مولانا سيد نعيم الدين مراد آبادي خليفه اعليٰ حضرت امام احمد رضا قادري بريلوي و صاحبِ تفسير خزائن العرفان (4)مولانا شبير علي خاں تنها ۔ يه چار يارِ باصفا مشهور تھے۔ شيخ ذكي مراد آبادي كا بهتر سال كي عمر ميں 1281ھ 1864ئ ميں انتقال هوا۔

﴿علماے هند كا شان دار ماضي،ج:4،ص:376﴾

(3) چند ممتاز علماے انقلاب1857ئ، از:مولانا يٰسين اختر مصباحي،ص:91 مطبوعه دار القلم دهلي1428ھ 2007ئ

(4) مراد آباد تاريخ جد و جهد آزادي، از:سيد محبوب حسين سبز واري، ص:141مطبوعه اسلامي بك هاو س، مراد آباد، مارچ2000ئ

(5) الملفوظ، مرتبه:مفتيِ اعظم هند علامه مصطفي رضا نوري بريلوي،ج:2، ص:39، مطبوعه رضا اكيڈمي ممبئي،1427ھ 2006ئ)به حذف و تلخيص(

(6) انگريز نوازي كي حقيقت، از: مولانا يٰسين اختر مصباحي،ص:60مطبوعه دارالقلم، دهلي1428ھ 2007ئ

(7) مطالعه بريلويت،ج:1،ص:235 236حافظي كتب خانه، ديوبند

(8) مقاله محمد ايوب قادري، بي اے ، مطبوعه رساله العلم، كراچي، شماره:اپريل تا جون1957ئ

(9) چند ممتاز علماے انقلاب1857ئ،ص:99

(10) ترجمان اهلِ سنت كراچي، جنگ آزادي 1857ئ نمبر،ص:97

(11) ايضاً،ص:167 168

(12) ايضاً، ص:97

(13) مراد آباد تاريخ جد و جهد آزادي، از:سيد محبوب حسين سبز واري،بحواله چند ممتاز علماے انقلاب 1857ئ،از: مولانا يٰسين اختر مصباحي،مطبوعه دار القلم دهلي1428ھ 2007ئ

(14) مراد آباد تاريخ جد و جهد آزادي، از:سيد محبوب حسين سبز واري، ص:203مطبوعه اسلامي بك هاو س، مراد آباد، مارچ2000ئ

(15) چند ممتاز علماے انقلاب1857ئ، از:مولانا يٰسين اختر مصباحي،مطبوعه دار القلم دهلي1428ھ 2007ئ

(16) ﴿الف﴾ جنگ آزادي نمبر، العلم، كراچي، شماره جون1957ئ

﴿ب﴾ ترجمان اهلِ سنت كراچي، جنگ آزادي 1857ئ نمبر،ص:97 98

(17) مراد آباد تاريخ جد و جهد آزادي، از:سيد محبوب حسين سبز واري، ص:141تا 142،بحواله چند ممتاز علماے انقلاب 1857ئ،از: مولانا يٰسين اختر مصباحي،مطبوعه دار القلم دهلي،ص:95 97

(18) چند ممتاز علماے انقلاب 1857ئ،ص:94 95

(19) مصدر سابق،ص:98 99








مجاهد اعظم علامه فضل حق بن مولانا فضل امام خير آباد ي

 مجاهد  اعظم علامه فضل حق بن مولانا فضل امام خير آباد ي       

مجاهد اعظم، بطل حريت علامه فضل حق بن مولانا فضل امام خير آباد ي كي عبقري شخصيت جنگ آزادي1857ئ كے عظيم ره نماو ں اور اس كے نماياں هيروو ں ميں شمار كي جاتي هے۔ جنگ آزادي ميں جوش و خروش اور اشتعال انگيزي علامه هي كے دم قدم سے هوئي۔ علامه كي شخصيت1857ئ كے مسلّم ره نماے جنگ علما ے اهلِ سنت ميں هے۔ مگر آج كچھ لوگوں نے تاريخي حقائق پر پرده ڈالنے اور جنگ آزادي كے مسلّم ره نماو ں كے خلاف فضا پيدا كرنے كي ناپاك كوشش كي هے۔ تاريخ كا يه الميه هر دور ميں رها هے كه طاغوتي طاقتيں علماے ربانيين كي واقعي كوششوں اور ا ن كے حقيقي كارناموں كو تاريخ كے صفحات سے يكسر ختم كرنے ميں كوشاں رهيں۔ ان سے بغض و عناد ركھنے والے متعصب تاريخ سازوں نے جھوٹي روايتيں اور من گڑھت واقعات سے هميشه ان كے روشن و تاب ناك كردار كو آلوده كيا هے۔ اور جو ننگِ دين و ملت اس كے اهل نهيں تھے اسے اس كا سب سے بڑا ركن ركين بنا كر پيش كيا جاتا هے، ايجاد و تحسين كا سهرا ان كے گلے كي زينت بنتا هے

مثال ايسي هے اس دورِ خرد كے هوش مندوں كي

نه هو دامن ميں ذره اور صحرا نام هو جائے

انھيں ميں علامه فضل حق خير آبادي كي ذات والا صفات بھي هے۔ اسلامي تاريخ كے دعوے داروں نے تاريخي حيثيت سے انھيں زياده گزند پهنچايا۔ بالخصوص وهابي، ديوبندي جماعت ميں سيد احمد راے بريلوي اور اسماعيل دهلوي كے سيرت نگاروں نے تو يه التزام هي اپنے ليے ركھا كه جس طرح بھي هو تاريخ كے صفحات ميں علامه كي شخصيت كو اجاگر نه هونے ديں گے، بلكه فضل حق سے آزادي كي زمام چھينني هے، چناں چه مولانا عبد الشاهد خاں شرواني لكھتے هيں:


٫٫شاه اسماعيل دهلوي كي سوانح لكھنے والوں نے علامه كے ساتھ بڑا ظلم روا ركھا، رنگ آميزي اور بهتان طرازي سے بھي دريغ نه كيا۔٬ ٬(1)


مولانا مثال كے طور پر مرزا حيرت دهلوي صاحبِ حياۃطيبه شاه اسماعيل دهلوي كے بارے ميں لكھتے هيں:


٫٫مرزا حيرت دهلوي صاحب حياۃطيبه نے تو محوِ حيرت هي بنا ديا نه صرف علامه بلكه ان كے والد ماجد مولانا فضل امام كو بھي پڑھا لكھا ماننے ميں تامل كيا هے۔ حيرت هوتي هے كه انسان معاندانه روش اختيار كرتے وقت نابينا كيوں هو جاتا هے۔٬٬ (2)


مرزا حيرت دهلوي اور ايسے هي محمد جعفر تھانيسري كے متعلق اكثر كي راے يهي هے كه يه دونوں پاے اعتبار سے ساقط هيں۔ ان كي تاريخ گوئي اور روايت بياني منظور نظر نهيں، بلكه هرزه سرائي هے ۔(3)


ان كي تصانيف اس شعر كي مصداق هيں


تو لطفِ تماشه ليتا جا مت ڈھونڈ سراغِ اصليت

تصنيف كے صورت خانے ميں كچھ وهم اور كچھ سچائي هے

انھيں جيسے نام نهاد مورخين نے تاريخيں تصنيف كيں۔ جنگ آزادي كے مجاهدين اور شهدا كے خلاف كهانياں گڑھيںاور انگريز كے جاسوس كو دين كا دشمن اور جنگ آزادي كا هيرو ثابت كرنے كے ليے ايڑي چوٹي كا زور لگا ديا۔اس كے ليے انھوں نے تاريخي ماخذ ميں غلط بياني سے كام ليا اور ان سے صرف نظر كركے من گڑھت كهانيوں كي تشهير كي اور كئي ننگ اسلام كو قدسي صفات بنا كر پيش كر ديا۔ ليكن مشهور هے كه ٫٫دروغ گو را حافظه نباشد٬٬ كسي نه كسي پهلو سے كسي طرح منه سے سچي بات كبھي نكل هي آتي هے، جيسا كه آگے ملاحظه كريں گے۔ علامه كي ذات اور ان كے نماياں كارناموں پر تاريخي حيثيت سے پرده ڈالنے كي بھر پور كوشش كي گئي۔


مشاهدے كو تو كانٹوں كي بھيك بھي نه ملي

سنا هے صحنِ گلستاں ميں پھول كھلتے هيں

مشهور اديب و نقاد نادم سيتا پوري لكھتے هيں:


٫٫مولانا فضل حق خير آبادي گزشته صدي كا وه بد نصيب كردار هے جسے دشمنوں سے زياده دوستوں نے نقصان پهنچايا۔ انگريز اور ان كے هوا خواه مولانا سے اس ليے ناراض تھے كه انقلاب سن ستاون كے سلسله ميں كسي نه كسي نهج سے ان كا نام آگيا هے۔ ليكن خود مسلمانوں كا ايك ٫٫پروپيگنڈسٹ گروپ٬٬ مولانا سے اس ليے بے زار تھا كه وه ان كے مذهبي نظريات كے خلاف عالمانه مجاهده كر چكے تھے۔ يه باوقار علمي مباحثے كوئي ذاتي اور عاميانه جنگ نهيں تھے جس كا سهارا لے كر مولانا خير آبادي كے خلاف ايك مستقل محاذ قائم كر ديا جاتا، ليكن هوا كچھ ايسا هي۔ مولانا كے اكثر سيرت نگاروں نے نادانسته نهيں دانسته مولانا كي مدح سرائي اس انداز سے كي كه خود٫٫مدح٬٬ اور ٫٫هجو بليغ٬٬ سر بگريباں هو گئے۔ چناں چه اس كا نتيجه يه نكلا كه آج جب ريسرچ اور تحقيق كي نگاهيں تاريخ كے ان اوراق تك پهنچيں تو دنيا هي بدلي هوئي نظر آئي۔٬٬ (4)


مزيد لكھتے هيں:


٫٫اس ميں شك نهيں كه مولانا فضل حق﴿خير آبادي﴾ كے كئي سيرت نگاروں نے من گھڑت ، جھوٹي اور بے سروپا حكايتيں بيان كر كے مولانا كے نيك كردار كو خواه مخواه سبك كرنے كي كوشش كي هے۔ ٬٬(5)


اس سلسلے ميں علامه فضل حق كے ايك سيرت نگارمفتي انتظام الله شهابي كے بارے ميں نادم سيتا پوري لكھتے هيں:


٫٫جھوٹي روايات،من گھڑت واقعات اور فرضي كتابوں كے غلط حوالے مفتي صاحب كي ادبي زندگي كا شان دار شاه كار رها هے۔٬ ٬(6)


ان تاريخ سازوں ميں كچھ تو جنگ آزادي كا ذكر كرتے هوئے علامه فضل حق خير آبادي كا نام بھي لينا گوارا نهيں كرتے۔ كچھ تو يه كهتے هيں كه انھوں نے محض انگريزوں كے خلاف فتويٰ ديا تھا۔ كسي جنگ ميں حصه نهيں ليا اور كوئي قابلِ قدر خدمت انجام نهيں دي۔ كوئي يه كهتا هے كه فتويٰ تو انھوں نے ديا هي نهيں اور فضل حق شاه جهان پوري كے بجاے انھيں پكڑ كر كالا پاني كي سزا دي گئي تھي جهاں وه شهيد هو گئے۔ مولانا امتياز علي عرشي رام پوري اپنے مقاله٫٫مولانا فضل حق خير آبادي اور 1857ئ كا فتواے جهاد٬٬ مطبوعه ماه نامه تحريك دهلي، اگست1957ئ ميں علامه كے فتواے جهاد كے منكر نظر آتے هيں۔ ملاحظه هو:


٫٫مولانا نے علماے زهاد اور ائمه اجتهاد كے فتويٰ دينے كا ذكر تو كيا هے مگر اپنا حواله بالكل نهيں ديا۔ اس سے يه نتيجه نكلتا هے كه اگر وه شريكِ فتويٰ بھي هوتے تو جيسا كه آگے چل كر اربابِ حكومت كو اپنے مشورے دينے كا تذكره فرماتے هيں، يهاں بھي فتويٰ كي طرف كچھ نه كچھ اشاره ضرور كرتے۔ ٬٬(7)


ڈاكٹر مالك رام لكھتے هيں:

٫٫مولانا فضل حق مرحوم نے 1857ئ كي تحريك ميں واقعي حصه نهيں ليا تھا۔ انھوں نے اس سے پهلے لوگوں كو جو تلقين بھي كي هو ليكن جب يه هنگامه شروع هوا تو وه عملاً سب سے الگ تھلگ رهے، نه علمي پهلو سے اس ميں شريك هوئے نه عملي لحاظ سے، انھوں نے نه كوئي فتويٰ لكھا اور نه تلوار اٹھائي ۔٬٬(8)


يه تھي تاريخ ميں علامه فضل حق خير آبادي كي مظلوم شخصيت۔ آئيے به نظر صداقت و تحقيق علامه كي فقيد المثال، نابغه روز گار هستي كے فتواے جهاد اور ان كي روشن خدمات كا جائزه ليا جائے۔ اربابِ علم و دانش كي نظر ميں علامه خير آبادي كا كردار كتنا بلند هے۔ انھوں نے كس گرم جوشي اور ملي درد كے ساتھ اس پهلي جنگ آزادي ميں حصه ليا هے۔ انشائ الله هم اسے حقانيت كے آئينے ميں پيش كريں گے۔


راجا غلام محمد نے نهايت بسط وتحقيق كے ساتھ اپني كتاب ٫٫امتياز حق٬٬ ميں ان غلط پروپيگنڈوں كي دھجياں بكھير دي هيں۔ وه ايك جگه لكھتے هيں:


٫٫ان لوگوں نے بهت چاها كه فضل حق خير آبادي كي قربانيوں پر اپني مصلحتوں اور مخالفتوں كے پردے ڈاليں مگر ان كے كردار كي پختگي ، عزم كي سلامتي اور استقلال و همت كي جزئيات پر نظر ڈاليں تو يقين آتا هے


آكے گرا تھا ايك پرنده لهو ميں تر

تصوير اپني چھوڑ گيا هے چٹان پر(9)

كتب تواريخ ميں علامه كے فتواے جهاد كا ذكر كس زور و شور سے هے، آنے والي عبارتوں سے اس كا اندازه كيجيے۔ ميں صرف آپ كو علامه كے فتويٰ كي باز گشت سناتا هوں۔ خورشيد مصطفي رضوي٫٫جنگ آزادي1857ئ٬٬ ميں لكھتے هيں:


٫٫علما نے جس جس طرح بغاوت كو منظم كيا، اس كا مفصل بيان كرنے كے ليے تو ايك علاحده كتاب كي ضرورت هے۔ مگر ان كا كچھ تذكره ان صفحات پر كيا جا رها هے ۔ اس حقيقت پر بڑے بڑے مورخ بھي انكار كي جرا ت نهيںكر سكے هيں كه يه علما ميں بے حد مقبول تھے۔ ان كي تحرير و تقرير كا بڑا اثر هوتا تھا۔ چناں چه دهلي ميں جنرل بخت خاں كي تحريك پر مولانا فضل حق خير آبادي اور دوسرے علما نے جو جهاد كا فتويٰ ديا ، اس كے بارے ميں مولوي ذكائ الله دهلوي نے بھي اپني تاريخ ميں اقرار كيا هے كه اس سے مذهبي جوش و خروش بهت بڑھ گيا تھا۔٬ ٬(10)


نيز اسي ميں دوسري جگه لكھتے هيں:


٫٫كها جاتا هے كه 1857ئ قريب آنے پر آپ ﴿فضل حق﴾ نے اكثر واليانِ رياست كو بغاوت پر آماده كرنے كي كوشش كي۔ اگست57ئ ميں دهلي آگئے اور يهاں جنرل بخت خاں كي تحريك پر جهاد كا فتويٰ مرتب كر كے پيش كيا، جس سے مسلمانوں ميں بے حد جوش و خروش پيدا هو گيا۔٬٬ (11)


علامه كے فتواے جهاد كے متعلق مجله خيال لاهور كے سن ستاون نمبر ميں شكور احسن صاحب مفتي صدر الدين آزرده پر مضمون لكھتے هوئے علامه كے فتواے جهاد كا ذكر كرتے هيں:


جب برطانوي استعمار كے خلاف 1857ئ كا هنگامه شروع هوا تو بعض شاعروں ، اديبوں اور عالموں نے اس ميں سرگرمي سے حصه ليا اور انگريزي حكومت كا اقتدار بحال هو جانے كے بعد ان پر مصيبت كے پهاڑ ٹوٹ پڑے۔ مولانا فضل حق كو جهاد كا فتويٰ صادر كرنے كے جرم ميں انڈمان بھيج ديا گيا، صهبائي كو پھانسي كے تختے پر لٹكايا گيا، شيفته كو قيد و بند كي مصيبتيں جھيلني پڑيں۔٬ ٬(12)


جب بھي كوئي مورخ تاثرات كو تعصبات سے قطع نظر كر كے 1857ئ كا حال لكھے گا تو علامه فضل حق خير آبادي كے فتواے جهاد كا ذكر ضرور كرے گا۔ آپ هي نے جامع مسجد ميں فتويٰ پڑھ كر سنايا، علما كے دستخط كروائے، اس فتوے كي اشاعت سے جد و جهدِ آزادي ميں زور پيدا هوا۔ بالآخر مقدمه كے موقع پر علامه فضلِ حق اس بات پر بر قرار رهے كه يه فتويٰ انھوں نے لكھا هے اور اب تك ان كي يهي راے هے:


٫٫جب 1857ئ كا هنگامه عظيم دهلي ميں رونما هوا تو ﴿مولانا فضل حق﴾فوراً دهلي پهنچے اور جهاد كا فتويٰ ديا۔ جنرل بخت خاں كمانڈر انچيف افواجِ ظفر سے ملے اور اس كي بڑي اعانت و امداد كي۔ ٬٬(13)


سه ماهي ٫٫الزبير٬٬ بهاول پور كے تحريكِ آزادي نمبر1970ئ ميں هے:


٫٫مولانا فضل حق نے ايك دن بعد نمازِ جمعه جامع مسجد ميں انگريزوں كے خلاف فتويٰ پڑھ كر سنايا تو بهتوں كے ليے باعثِ تشويش بنا۔ اس فتويٰ پر مفتي صدر الدين آزرده اور دوسرے پانچ علما كے دستخط تھے۔ اس كا شائع هونا تھا كه جد و جهد نے ايك نيا زور پكڑا اور جگه جگه انگريزوں كے چھكے چھوٹ گئے۔ تاريخ ذكائ الله كے بيان كے مطابق اس فتويٰ كے بعد صرف دهلي ميں نوے هزار سپاه جمع هو گئي۔ ٬٬(14)


غير مقلد مورخ غلام رسول مهر جو شاه اسماعيل كے بڑے مداح هيں۔ علامه فضلِ حق خير آبادي اور شاه اسماعيل كے مابين ٫٫مسئله امتناع النظير٬٬ پر وقوع مناظره اور علامه كا شاه صاحب كو كافر قرار دينے كے سبب مورخ مذكور هر گز علامه كي شخصيت كو داد و تحسين كي نگاه سے ديكھنا پسند نهيں كرتا۔ تاريخ ميں بے شمار ايسے لوگ گزرے هيں جو تحريف في التاريخ كے ناتے سے پهچانے جاتے هيں۔ ان لوگوں نے بهت سے پاك باز نفوس قدسيه كے روشن كردار كو مسخ كيا اور كئي ننگ اسلام شخصيتوں كو قدسي صفات بنا كر عرش بريں سے بھي اونچا كر ديا۔ مگر الحق يعلو ولا يُعليٰ۔حق كي تابانيوں سے عالم روشن هو گيا۔ حق كسي نه كسي طرح مورخين كے قلم سے صادر هو كر رها۔ حتي كه مهر صاحب بھي اس حقيقت كو تسليم كيے بغير نهيں ره سكے كه فتويٰ كے سلسلے ميں فضل حق كي كاركردگي سب سے زياده نماياں هے، اگر وه نه هوتے تو اس فتويٰ كا وجود هي نه هوتا


بات بن سكتي نهيں كوئي صداقت كے بغير

تير كي پشت په كردارِ كماں هوتا هے

مهر صاحب لكھتے هيں:


٫٫مولانا﴿فضل حق خير آبادي﴾ كے دهلي پهنچنے سے پيش تر بھي لوگوں نے جهاد كا پرچم بلند كر ركھا تھا۔ مولانا پهنچے تو مسلمانوں كو جنگ آزادي پر آماده كرنے كي غرض سے باقاعده ايك فتويٰ مرتب هوا، جس پر علماے دهلي كے دستخط ليے گئے۔ ميرا خيال هے كه يه فتويٰ مولانا فضل حق هي كے مشورے سے تيار هوا تھا اور انھيں نے علما كے نام تجويز كيے جن كے دستخط ليے گئے۔٬٬ (15)


سعيداحمداكبر آبادي فاضل ديوبند علامه كے فتواے جهاد كے بارے ميں لكھتے هيں كه كتبِ تواريخ ميں موجود فتواے جهاد پر علامه كے دستخط نظر نه آئے تو كيا اس كا مطلب يه هے كه اس سے انكار هي كر ديا جائے۔ هر گز نهيں بلكه علامه كا ايك مستقل فتويٰ تھا جس كا ذكر معتبر تاريخوں ميں ملتا هے:


٫٫اس وقت همارے سامنے فتويٰ كي جو نقل هے اس پر 38دلي كے علما و مشائخ كے دستخط هيں۔ مولانا فضل حق خير آبادي كے اس پر دستخط نهيں هيں ليكن ان كا الگ مستقل فتواے جهاد تھا جس كا ذكر 1857ئ كي جنگ آزادي كي اسلامي تاريخوں ميں تفصيل كے ساتھ كيا گيا هے۔٬٬


٫٫مولانا بلند پايه عالمِ دين هونے كے ساتھ رئيسانه طور طريق زندگي ركھتے تھے، ليكن اس كے باوجود ان كي ايماني جرا ت و جسارت اور ديني حميت و غيرت كا يه عالم تھا كه انھوں نے هر چيز سے بے نياز هو كر دلي كي جامع مسجد ميں نمازِ جمعه كے بعد جهاد كے واجب هونے پر ايك نهايت ولوله انگيز تقرير كي اور اس كے بعد جهاد كے ايك اور فتويٰ كا اعلان هوا، جس پر صدر الصدور مفتي صدر الدين خاں آزرده، مولانا فيض احمد بدايوني، ڈاكٹر مولوي وزير احمد خاں اكبر آبادي اور دوسرے علما كے دستخط تھے۔٬ ٬(16)


علامه كي زندگي اور ان كے كار هاے نماياں كي تفصيلات كے ثقه جامع مولانا عبد الشاهد خاں شرواني علي گڑھي مولف باغي هندستان تاريخ مولوي ذكائ الله كے حوالے سے لكھتے هيں:


٫٫علامه سے جنرل بخت خاں ملنے پهنچے۔ مشورے كے بعد علامه نے آخري تير تركش سے نكالا بعد نمازِ جمعه جامع مسجد ميںعلما كے سامنے تقرير كي ،استفتا پيش كيا۔ مفتي صدر الدين خاں آزرده صدر الصدور دهلي، مولوي عبد القادر ، قاضي فيض الله دهلوي، مولوي فيض احمد بدايوني، ڈاكٹر مولوي وزير خاں اكبر آبادي، سيد مبارك شاه رام پوري نے دستخط كر ديے۔ اس فتويٰ كے شائع هوتے هي ملك ميں عام شورش بڑھ گئي، دهلي ميں نوے هزار سپاه جمع هو گئي تھيں۔ ٬٬(17)


ان چند تاريخي شواهد سے آفتاب نصف النهار كي طرح روشن هو گيا كه علامه نے 1857ئ كي جنگ آزادي ميں وجوبِ جهاد كا فتويٰ ديا اور اس دور كے معاصر علما سے بھي استفتا كر كے وجوبِ جهاد كا فتويٰ ليا جس پر اس دور كي تاريخيں اور قلمي مخطوطات بھي شاهد عدل هيں، جن كا انكار دن ميں طلوعِ آفتاب كے انكاركے مترادف هوگا۔ معكوسه فتاويٰ ميں علامه كا دستخط نه پا كر انكار كرنا هر گز شيوه تحقيق نهيں۔ سعيد احمد اكبر آبادي فاضل ديوبند كي حقيقت آشكار عبارت گزر چكي هے ۔ علامه كي شخصيت پر تاريخي شكوك و شبهات وارد كرنے والوں كويه خبر نهيں كه چاند پر تھوكنے سے اپنے هي چهرے آلوده هوں گے۔ مولانا عبد الشاهد خاں شرواني نے اپني كتاب ٫٫باغي هندوستان٬٬ كے چوتھے ايڈيشن مطبوعه ٫٫المجمع الاسلامي مبارك پور٬٬ ميں بنام مقدمه كي كارروائي ايك مستقل باب كا اضافه كيا هے۔ جس ميں مقدمات كي مسل اور اس دور كے كچھ سركاري كاغذات كي مدد سے نئے زاويه تحقيق كي روشني ميں تاريخي ماخذوں كي تغليط كرنے والوں كے شكوك دور كر ديے هيں اور اپنے معاصر و كرم فرما امتياز علي عرشي رام پوري اور مالك رام پر خامه فرسائي كرتے هوئے عدم طعن و تشنيع كي ارتجا بھي ٫٫ايں گناهے است كه در شهر شما نيز كنند٬٬ اس كے بعد اخير ميں راقم هيں:


٫٫مقدمه كي كارروائي معاصرين و مورخين كي شهادتيں اور انگريزوں كے بيانات كي روشني ميں محترم بزرگ مولانا امتياز علي خاں عرشي رام پوري اور جناب مالك رام صاحب كے نظريه مذكوره پر نظر ڈاليں تو آپ كو صاف نظر آئے گا


حريف صافي و دردي نه ايں خطا ايں جاست

نا خوش و خوش مي كني بلا ايں جاست

اور اس كے سوا كيا كها جا سكتا هے كه

تفاوت ست ميان شنيدن من و تو

تو بستن در و من فتحِ باب مي شنوم(18

پهلي جنگ آزادي ميں بطل حريت علامه فضل حق خير آبادي كي نماياں خدماتِ عاليه سنهرے حرفوں ميں لكھے جانے كے قابل هيں۔ علامه هي كي جد و جهد سے اس ميں اشتعال انگيزي، اسلامي جوش و خروش اور ملي جذبه پيدا هوا۔ آپ حكومت انگلشيه كے ابتدائي ملازمت هي سے اس كے متعصبانه رويه سے سخت متنفر هو چكے تھے۔ جهاں كهيں بھي وه ملكي عهدے پر فائز المرام رهے، هميشه مسلمانوں ميں ان كے ديني جذبے ، ملي درد، اسلام كي روحاني طاقت و قوت اور قرونِ اوليٰ كے مسلمانوں كي شان و شوكت كے ساتھ قومي عظمت باقي ركھنے كي كوشش كرتے، اور دل هي دل ميں هندستاني قوم كے نوشته تقدير غلامي پر خون كے آنسو بهاتے۔ همارے جس عظيم ره نما نے سب سے پهلے هماري آزادي كے ليے اپنا خونِ جگر صرف كيا ، ترغيبِ جهاد اور فكري ره نمائي كے ذريعه پوري قوم ميں آزادي كي روح پھونكي اور قوم پر اپني قائدانه صلاحيتوں كو قربان كرتے هوئے ملك بدر هو كر ديارِ غير ميں شديد مصائب و آلام اور لرزه بر اندام تكليفوں كو جھيلتا هوا شوقِ شهادت پورا كر گيا۔ افسوس كه اس قائد اعظم كي مجاهدانه رياضتوں اور مشقتوں كو بعض تاريخ كے صفحات پر قطع و بريد كے ساتھ پيش كياگيا هے۔ چناں چه مالك رام كا نظريه گزر چكا كه وه علامه كے فتواے جهاد اور مجاهدانه سرگرميوں كے منكرهيں۔ غير مقلد مورخ غلام رسول مهر اگرچه كسي نه كسي طرح فتويٰ كي تائيد كر گئے، مگر وه بھي علامه كے مجاهدانه كارناموں كا انكار كرتے هيں:


٫٫غالباً يهي وه فتويٰ تھا جو انجام كار مولانا ﴿فضل حق﴾كے خلاف مقدمے كا باعث بنا ورنه انھوں نے نه كسي جنگ ميں حصه ليا ، نه ان كے پاس كوئي عهده تھا، نه كسي كے قتل ميں شركت كي اور نه ان كے خلاف كوئي اور سنگين الزام تھا۔ ٬٬(19)


تاريخ ميں اسي منافقانه چال اور معاندانه رويه اختيار كرنے كے سبب رئيس احمد جعفري اپني تاريخ٫٫بهادر شاه ظفر اور ان كا عهد٬٬ ميں چهره حقيقت سے نقاب كشائي كرتے هوئے رقم طراز هيں كه غدر 1857ئ كي روح رواں اور محرك اعظم صرف دو شخصيتيں هيں جن ميں دوسرے علامه موصوف هيں۔


٫٫هم نے غدر كے جن هيروو ں كا ذكر كيا هے ان ميں سے صرف بخت خاں اور مولانا فضل حق خير آبادي دو ايسي شخصيتيں هيں جنھوں نے دهلي كے محاربات غدر ميں مركز نشين هو كر حصه ليا هے۔ بخت خاں اور مولانا فضل حق خير آبادي كے احوال و سوانح ، واقعات و حوادث ، كارناموں اور سرگرميوں كي تفاصيل معلوم كرنا آسان نه تھا غدر كے بعد غدر كا ذكر بھي كتنا روح فرسا تھا۔ اور ان شخصيتوں كا تذكره جنھوں نے اس انقلابي تحريك ميں مردانه وار حصه ليا تھا، اپني جان سے هاتھ دھونا تھا ان اكابر كا اول تو مرتب و منضبط صورت ميں كهيں ذكر نهيں ملتا اور اگر كهيں ملتا بھي هے تو مخالفانه اور معاندانه انداز ميں ۔ ان مشكلات كے باوجود زياده سے زياده معتبر اور مستند مواد حاصل كرنے كي اپنے مقدور بھر هم نے كوشش كي هے۔٬ ٬(20)


روايت و تواريخ كے پيشِ نظرعلامه كي ملي و سياسي خدمات كا جائزه لينے سے قبل درايتي فكر و نظر كي روشني ميں اس وقت كے سياسي و ملكي حالات كو سامنے ركھ كر سنجيدگي كے ساتھ شعورِ انساني كو دعوتِ فكر ديں كه آيا علامه جيسا صاحبِ فكر و نظر صائب الراے ، دور انديش شخص حياتِ آزادي كے ليے كي جانے والي جد و جهد كے وقت خاموش تماشائي بنا ره سكتا هے، يا بے خطر اس آتشِ آزادي ميں كود پڑتا هے۔


اورنگ زيب عالم گير كي وفات كے بعد مغل شهزادوں كے درميان اختلاف و انتشار كے سبب زوال كے اثرات رو نما هو چكے تھے۔ ادھر هندستان كے جنوب مشرقي ساحل پر انگريزي قوميں به غرضِ تجارت يورپ سے هندستان آكر يهاں حكمراني كے خواب ديكھ رهي تھيں۔ رفته رفته حكومت كم زور، اور بيروني طاقت زور پكڑتي رهي۔ بالآخر غدر سے پهلے هندستاني مسلمانوں كي زبوں حالي كس قدر روح فرسا هے، قارئينِ تاريخِ هند سے يه بات مخفي نهيں۔غير ملكي پورے طور پر بيدار هو كر مسلمانوں كي فطري صلاحيتوں اور ان كے جوش و جذبے كو اپني حسنِ تدبير سے يكسر منجمد كر رهے تھے۔ ان كے حكمرانوں كي غفلت و لاپروائي اور نا اهل عهدے داروں كي عياشيوں اور عاقبت نا انديشوں سے فائده اٹھاتے هوئے ان كے ارد گرد سازشوں كا جال بچھا ديا۔ هميشه تاريخ كے اوراق كچھ غداروں كے شرم ناك كرتوت سے سياه رهے۔ ايك منظم طاقت كسي غدار كے مكر و فريب اور اس كي دغا بازيوں كے سامنے هيچ هے۔آنے والي سفيد رو قوم نے اس ميدان ميں اپني خصوصي توجه مبذول كي۔ اسے يقين تھا كه كبھي بھي صرف ميدانِ جنگ ميں قومِ مسلم كو مغلوب نهيں كيا جا سكتا۔ بالآخر اس نے هماري هي قوم ميں چند ننگِ دين و ملت پيدا كر كے ان كے ذريعه اپنے قدم جمانے شروع كيے، پھر تو مختلف اضلاع و صوبه جات پر ان كا تسلط هوتا گيا۔


علامه كي پيدائش كے دوسرے سال1799ئ ميں سلطان ٹيپو كي شهادت كے بعد ملك كے اكثر حصه پر انگريز قابض هو چكے تھے۔ اٹھارهويں صدي عيسوي كے اختتام كے بعد غير ملكي طاقت پورے هند پر چھا گئي۔ هندي قوم كے عروج كا ستاره غروب هو كر غلامي ان كا مقدر بن چكي تھي۔ مغلوں كي بادشاهت صرف قلعه كي چهار ديواري كے اندر محدود تھي۔ شاطر و عيار دشمن اب هندستانيوں كے مذهبي امور ميں مداخلت كر رها تھا۔ ليكن هر دور ميں فرعوني طاقت كي سركوبي كے ليے ايك موسيٰ كا وجود قانونِ فطرت هے۔ اس وقت بھي اجله علماے كرام، محدثينِ عظام اور صوفيا و مشائخ كي ايك جماعت موجود تھي، جن كے سينے اسلامي علوم و افكار سے مملو تھے۔


ديني تعليم ميں حكومت كي لاپروائي كے سبب علما كي اكثريت سياسيات سے يك گونه الگ هو كر تجديد دين و احياے سنت ميں مشغول تھي۔ يه مقدس جماعت اپنے مقدور بھر مسلمانوں كے قلوب ميں انساني حريت اور اسلامي جذبے وديعت كرتي رهي۔ علامه فضل حق خير آبادي اپنے زمانے كے فضلا و علما ميں سرخيلِ جماعت كي حيثيت ركھتے تھے۔ علامه كا خاندان ديني عظمت كے ساتھ ساتھ دنياوي وجاهت بھي ركھتا تھا، اس ليے آپ مختلف جگه ملكي اعليٰ مناصب پر فائز هوتے رهے اور اس اسلام دشمن طاقت كا مشاهده بهت قريب سے كيا، جس سے ان كے سينے ميں مسلسل حريت و آزادي كي چنگاري مشتعل هوتي رهي۔ اس ليے علامه جهاں كهيں بھي رهے حتي الامكان هندي قوم ميں آزادي كي لهر پھونكتے رهے۔


بالآخر غلامي جب اپني انتها كو پهنچ گئي، ظلم كے تركش كا آخري تير مذهبي معاملات ميں دخيل هونے لگا اور منه سے توڑي جانے والے كارتوس ميں سور اور گاے كي چربي كي آميزش كي گئي۔ جس سے هندي فوج يك لخت مشتعل هو كر انگريزوں كے خلاف محاذ آرا هو گئي۔﴿جس كي پوري تفصيل علامه كي كتاب الثورۃ الهنديه ميں ملاحظه كريں﴾۔


علامه فضل حق جيسا درد مند حساس اور دانش مند مفكر جو اپني عمر عزيز كے ايك بڑے حصے ميںان كي اسلام دشمني كے سبب خون كے تلخ گھونٹ پي چكا هو بھلا ايسے زريں موقع پر كيسے خاموش ره سكتا هے۔ فوراً علامه نے اپنا فتواے جهاد جاري كيا، پھر محض فتويٰ دے كر عورتوں كي طرح گھروں ميں بيٹھنا كيسے متصور هو سكتا هے، يقينا علامه نے اس جنگ آزادي ميں بھر پور حصه ليا ۔ يه مسلم هے كه ميدانِ جنگ ميں لڑنے والي فوج وه كام نهيں كر سكتي جو ايك دانش ور قائد كي قيادت و ره نمائي كر سكتي هے۔ ايامِ بغاوت ميں امورِ حرب و ضرب اور مملكتي نظام ميں اعيانِ سلطنت كو علامه كا مشوره دينا اور ان كي ره نمائي كرنا، بادشاهِ وقت كو فوجيوں كي بھر پور مدد اور به وقت ضرورت ان كي عملي قيادت پر بر انگيخته كرنا مخفي امر نهيں۔(21)خود علامه كو دهلي مدعو كيا جانا بھي اس پر بين ثبوت هے۔ وه الثورۃ الهنديه ميں لكھتے هيں:


٫٫توجھت تلقائ دهلي مما كان محلّي، فالقيت بھا رحلي ولا قيت بھا اهلي واشرت الي الناس بما اقتضيٰ رائي و قضي به عقلي فلم يا تمروا بما اشرت ولم يا تمروا بما امرت ٬٬(22)


ميں نے دهلي كا رخ كيا، وهاں پهنچ كر اهل و عيال سے ملا، اپني عقل و فهم كے مطابق لوگوں كو اپني راے اور مشوره سے آگاه كيا، ليكن نه انھوں نے ميرا مشوره قبول كيا اورنه ميري بات ماني۔


روايتي پهلو سے علامه خير آبادي كي سرگرمياں ملاحظه هوں۔ اس دور كے روز نامچوں اور تاريخوں ميں پوري تفصيل تو مذكور نهيں، پھر بھي بهت سي سرگرميوں كا سراغ ضرور ملتا هے۔ علامه بغاوت شروع هوتے هي دلي آگئے، وهاں اعيانِ سلطنت كي ره نمائي اور حكومت كے دستور العمل كي ترتيب شروع كر دي۔ اس كے بعد هي آپ نے اپنا فتواے جهاد صادر كيا۔ انگلش حكومت كے مخبرين كي بعض تحريريں هم تك پهنچ سكي هيں۔ چناں چه ايك جاسوس تراب علي لكھتا هے:


٫٫مولوي فضل حق جب سے الور سے آئے هيں وه فوجيوں اور شهريوں كو برطانيه كے خلاف بھڑكانے ميں مصروف هيں۔٬٬


٫٫مولوي فضل حق كي اشتعال انگيزيوں سے متاثر هو كر شهزادے بھي ميدان ميں نكل آئے هيں اور سبزي منڈي كے پھل والے محاذ پر صف آرا هيں۔٬٬


ايك دوسرے مخبر چني لال نے خبر دي:


٫٫مولوي فضل حق اپنے مواعظ سے عوام كو مسلسل بھڑكا رهے هيں۔٬٬


دوسري فائل ميں بھي كچھ اطلاعيں درج هيں:


٫٫مولوي صاحب﴿فضل حق﴾ جب بھي بادشاه سے ملتے وه بادشاه كو مشوره ديتے كه جنگ كے سلسله ميں رعايا كي همت افزائي كريں اور ان كے ساتھ باهر نكليں اور دستوں كو جس حد تك ممكن هو بهتر معاوضه ديں۔٬٬


ايك مجلسِ مشاورت قائم كي گئي تھي۔ علامه جس كے ايك نهايت فعال متحرك ركن بھي تھے:


٫٫بادشاه نے جنرل بخت خاں ، مولوي سرفراز علي اور مولوي فضلِ حق پر مشتمل وركنگ كونسل بنائي۔٬ ٬(23)


مغليه حكومت كي طرف سے علامه كو بڑے بڑے اختيارات بھي حاصل تھے جن پر مختلف احكام كے نفاذ كي تفصيل مخبرين كے اپنے اپنے روز نامچوں ميں مرقوم هے۔برطانيه حكومت كے ايك جاسوس منشي جيون لال كے روز نامچه ميں وسط اگست1857ئ اور اوائل ستمبر ميں علامه كي كاركردگيوں كا ذكر موجود هے۔ (24)


اسي جيون لال كے ايك بيان سے يه پته چلتا هے كه آپ نے شاهي فوج كي كمان بھي كي هے، تراب علي كي مذكوره رپورٹ بھي اس كي طرف اشاره كرتي هے ۔(25)


روز نامچوں كي ان تفصيلات سے علامه كے سياسي حالات سے باخبري اور انقلابي سرگرميوں كا اندازه هوتا هے۔


پھر سقوطِ دهلي كے پانچ روز بعد علامه خانماں بربادوں كي طرح اپني متاعِ عزيز كتب خانه اور ديگر ساز و سامان دشمن كے رحم و كرم پر چھوڑ كر خير آباد كوچ كر گئے۔ خرابيِ دهلي كے بعد جنگ آزادي كي سرگرميوں كا مركز ملكه حضرت محل زوجه نواب واجد علي شاه رئيس اودھ، بني۔ علامه بھي چند دن بعد ملكه كي معاونت كے ليے اودھ پهنچ گئے۔ وهاں حسب منزلت علامه كو اعليٰ عهدے پر فائز كيا گيا، اس كي مجلسِ مشاورت كے ايك اهم اور ممتاز ركن رهے اور انھيں مفيد مشوروں سے نوازتے رهے۔ مگر ناكامي و نامرادي اور هزيمت مقدر هو چكي تھي۔ بالآخر اودھ اور اس كے ارد گرد كے تمام علاقے انگريزوں كے زيرِ نگيں آگئے۔ پھر كچھ دنوں بعد علامه گرفتار كر ليے جاتے هيں جهاں سے ان كي ابتلا و آزمائش كا سنگين دور شروع هوتا هے ۔(26)


يه تھي دهلي اور اودھ ميں علامه كي مجاهدانه سرگرميوں كي ايك جھلك ۔ اس كے علاوه مقدمات كے بيان سے بھي واضح هوتا هے كه علامه نے پورے طور پر جنگ آزادي ميں فداكارانه حصه ليا اور اس كے زبردست محرك بھي رهے، ورنه بهت سے علما كي شركت اور بوقت جنگ آزادي بقيدِ حيات هونے كے باوجود اتني بھيانك سزا صرف علامه هي كے ليے كيوں منتخب كي گئي، يه امر بھي تو ايك جداگانه دعوتِ فكر اور لمحه نظريه هے۔ مختصراً مقدمات كي رپورٹ نذر قارئين هے:


1 اودھ كے چيف كمشنر كا سكريٹري اپنے سركاري مراسلے ميں لكھتا هے:


٫٫مندرجه ذيل لوگوں كے چلے جانے كے بعد حكومت كو قيامِ امن ميں كافي سهولت هو رهي هے، فيروز شاه، لكڑ شاه، مولوي فضل حق جو هماري حكومت كا دشمنِ جان هے، حالاں كه حكومت نے اسے اور اس كے اعزه كو اعليٰ مناصب عطا كيے تھے۔٬ ٬(27)


2 مسٹر جارج كيمبل جوڈيشنل كمشنر اودھ و ميجر بار و قائم مقام كمشنر خير آباد نے 4 مارچ1859ئ كو فيصله صادر كرتے وقت لكھا:


٫٫بغاوت شروع هونے سے قبل وه الور ميں ملازم تھا ، يهاں سے ديده و دانسته دهلي آيااور اس كے بعد وه باغيوں اور بغاوت كے قدم به قدم چلتا رها۔ ايسے شخص كو سخت ترين سزا ملني چاهيے اور اُسے خاص طور پر هندستان سے جلا وطن كر دينا چاهيے۔٬٬ (28)


علامه كے جهادِ آزادي ميں شريك هونے كي معاصر شهادتيں آپ نے ملاحظه كر ليں۔ بعد كي تاريخوں ميں بھي اس كا چرچا سنيے۔ مولانا حسين احمد مدني جنگ آزادي ميںعلامه فضل حق اور بعض معاصر علما اور ان كے تلامذه كے بڑے پيمانے پر شريك كار هونے كي شهادت ديتے هيں:


٫٫بهر حال مسلمان علما ميں سے مولانا احمد الله شاه صاحب، دلاور جنگ مدراسي اور مولانا فضلِ حق خير آبادي اور مولانا امام بخش صهبائي اور ان حضرات كے تلامذۃ وغيره نے جهادِ حريت1857ئ ميں بڑے پيمانے پر حصه ليا تھا۔٬ ٬(29)


محمد اسماعيل پاني پتي جنگ آزادي ميں علامه كي سياسي خدمات كے بارے ميں لكھتے هيں:


٫٫﴿علامه فضل حق نے﴾1857ئ كے هنگامه ميں انگريزوں كے خلاف سخت حصه ليا جس كے نتيجے ميں گرفتار كر كے كالے پاني بھيج ديے گئے ، جهاں اس فاضلِ اجل، عالمِ بے بدل نے نهايت كس مپرسي، بے بسي اور لاچاري كي حالت ميں 20 اگست 1861ئ كو انتقال كيا اور علم و دانش اور فضل و هنر كا يه آفتاب هميشه كے ليے غروب هو گيا۔٬٬ (30)


دوسري جگه اپنے مضمون٫٫1857ئ ميں علماے كرام كا حصه٬٬ ميں رقم طراز هيں:


٫٫جب1857ئ كا هنگامه عظيم دهلي ميں رو نما هوا تو علامه فوراً دهلي پهنچے اور جهاد كا فتويٰ ديا۔ جنرل بخت خاں كمانڈر انچيف افواجِ ظفر سے ملے اور اس كي بڑي اعانت كي۔ ٬٬(31)


مولوي رحمان علي٫٫تذكره علماے هند٬٬ ميں لكھتے هيں:


٫٫جنگ آزادي 1857ئ ميں مولانا فضل حق نے مردانه وار حصه ليا۔ دهلي ميں جنرل بخت خاں كے شريك رهے۔ لكھنو ميں حضرت محل كي كورٹ كے ممبر رهے۔ ٬٬(32)


سوويت يونين كي سائنس اكيڈمي كے اداره علومِ شرقيه كي ايك ممتاز ركن٫٫مادام پولونكايا٬٬ اپنے ايك مضمون ميں لكھتي هيں:


٫٫مولانا﴿فضل حق﴾ الور تشريف لائے جهاں انھوں نے انگريزوں كے خلاف ايك مسلح بغاوت كا پرچار كيا۔ ان كا خيال يه تھا كه وه زميں دار جو برطانوي حكومت سے مطمئن نهيں هيںاس كي بنيادي طاقت هوں گے۔ مولانا موصوف كے معاصرين اور ان كے سوانح نگاروں نے ان كے بهت سے خطوط كا ذكر كيا هے جو انھوں نے مختلف رياستوں كے حكمرانوں كو لكھے تھے۔ انھوں نے برطانيه كے خلاف ايك مسلح بغاوت كا پيغام ديا تھا۔ بغاوت كے زمانے ميں مولانا انگريزوں كے مخالفوں كي صف ميں رهے۔٬٬(33)


پاكستان كے مشهور پروفيسر محمد ايوب قادري علامه كے دهلي اور الور دونوں جگه كے جهادميں شريك هونے اور اس پر جلا وطني كي سزا پانے كے بارے ميں لكھتے هيں:


٫٫جنگ آزادي1857ئ ميں مولانا فضل حق نے حصه ليا، دهلي ميں جنرل بخت خاں كے شريك رهے، لكھنو ميں بيگم حضرت محل كي كورٹ كے ممبر رهے، آخر ميں گرفتار هوئے، مقدمه چلا اور حبس دوام عبور به درياے شور كي سزا هوئي۔٬٬ (34)


دوسري جگه لكھتے هيں:


٫٫1857ئ كے ايك هنگامے ميں مولانا فضل حق الور سے دهلي پهنچے اور دهلي سے بعد از خرابيِ بسيار اودھ پهنچے، حضرت محل كي كورٹ كے ممبر هوئے، بعد ازاں مولانا فضل حق گرفتار هوئے، بغاوت كے الزام ميں اس يگانه روزگار شخصيت پر مقدمه چلا۔٬٬ (35)


نام ور مورخ رئيس احمد جعفري اپني تاريخ٫٫بهادر شاه ظفراور ان كا عهد٬٬ ميں جنگ آزادي ميں علامه كي زبردست قائدانه شركت اور بهادر شاه ظفر كے معتمدِ خاص اور مملكتي معاملات ميں دخيل هونے كے بارے ميں لكھتے هيں:


٫٫وه﴿علامه فضل حق خير آبادي﴾ انگريزوں سے نفرت كرتے تھے اور انگريزوں كو نكالنے كے ليے هر منظم اور باقاعده تحريك ميں حصه لينے پر دل و جان سے آماده رهتے تھے۔ چناں چه جب غدر شروع هوا تو مولانا بے تامل شريك هوئے۔ وه بهادر شاه كے معتمد، مقرب اور مشير تھے، ان كے دربار ميں شريك هوا كرتے تھے، انھيں اهم معاملات و مسائل پر مشوره ديتے تھے اور اس بات كے مساعي تھے كه آزادي كي يه تحريك كامياب هو اور انگريز اس ديش سے هميشه هميشه كے ليے رخصت هو جائيں۔ مولانا نے غدر ميں دليري اور جرا ت كے ساتھ علانيه حصه ليا۔ ٬٬(36)


وه منفعل هو كه مشتعل بلا سے مگر

كبھي تو حالِ دلِ زار برملا كهيے

مذكوره تفصيلات غدر اور بعد كے تاريخي شواهد سے يه بات روزِ روشن كي طرح عياں هو گئي كه بطلِ حريت علامه فضل حق خير آبادي شهيد جزيره انڈمان قومِ هند كي آزادي كي خاطر هميشه كوشاں رهے، يقينا علامه جيسي بيدار مغز ، حساس دل اور حريت نژاد طبع عظيم عبقري شخصيت كا ضمير يه هرگز گوارا نهيں كر سكتا تھا كه گلے ميں كسي كي غلامي كا پٹكا بالخصوص اس قوم كي بے جا ماتحتي كسيے قابلِ برداشت هو سكتي هے جو قوم الله و رسول كي دشمن اور اس كے لائے هوئے آسماني مذهب كي نيستي كي خواهاں اور رسول الله كے جاں نثاروں كے خون كي پياسي هو۔ اس شيرِ حق كي رگوں ميں اپنے زنده دل غيور اسلاف كا خون رواں تھا، وه منجمد كيوں كر هونے لگتا۔ افسوس كه اس مردِ حق گو كے ساتھ اهل هوا و هوس متعصب مزاج تاريخ سازوں نے بڑا ظلم كيا، جو ان مورخين كي سياه دامني اور بد كرداري كا سبب بن كر ان كي ذات كو داغ دار اور رسواے زمانه تو كر گئي مگر علامه كي مفرد و يگانه روزگار هستي پر كوئي حرف نهيں لا سكي۔


حوالے و حواشي

(1) مقدمه باغي هندوستان،ص:20

(2) باغي هندوستان،ص:194

(3) ديكھيے مضمون٫٫اغلاط كي تصحيح٬٬ از سيد حكيم محمود احمد بركاتي، مشموله

باغي هندوستان،ص:294

(4) به حواله باغي هندوستان،ص:417غالب نام آورم

(5) به حواله امتيازِ حق،ص:12،غالب نام آورم،ص:109

(6) ايضاً،ص:13

(7) تحريك، دهلي اگست 1957ئ به حواله باغي هندوستان،ص:419

(8) تحريك، دهلي جون1903ئ به حواله فضل حق خير آبادي اور ستاون

عيسوي،ص:79

(9) امتيازِ حق،ص:26

(10) امتيازِ حق،ص:23 و باغي هندوستان،ص:272

(11) ايضاً،ص:28

(12) ايضاً،ص:24و باغي هندوستان ص:272

(13) ايضاً،ص:25و باغي هندوستان، ص:272

(14) امتيازِ حق،ص:26و باغي هندوستان،ص:273

(15) ايضاً،ص:24

(16) به حواله مقدمه تحقيق الفتويٰ،ص:17

(17) ايضاً،ص:215 (18) ايضاً،ص:278

(19) امتيازِ حق،ص:35 (20) به حواله امتيازِ حق،ص:40

(21) تفصيل كے ليے ديكھيے،٫٫الثورۃ الهنديه مشموله باغي هندوستان٬٬

اور ٫٫فضلِ حق خير آبادي اور 57ئ٬٬

(22) باغي هندوستان،ص:46

(23) ساري تفصيل باغي هندوستان،ص:267-68سے منقول هے۔

(24) ايضاً

(25) فضل حق اور 57ئ،ص:51و امتيازِ حق،ص:50

(26) فضل حق اور 57ئ،ص:61-62و العلامۃ فضل حق

(27) باغي هندوستان،ص:415

(28) ايضاً،ص:416 (29-30) ايضاً،ص:271

(31) ايضاً،ص:272

(32) ايضاً،ص:277و امتيازِ حق، ص:42

(33) امتيازِ حق، ص:49

(34) باغي هندوستان،ص:275و امتيازِ حق

(35) ايضاً،ص:276 (36) ايضاً،ص:275-76

نوٹ: علامه فضل حق خير آبادي كے فتواے جهاد اور ان كے مجاهدانه كارناموں سے متعلق جو تاريخي شهادتيں پيش كي گئي هيں ، چوں كه هميں اصل ماخذ دستياب نهيں اس ليے يه تمام تاريخي بيانات ٫٫امتياز حق٬٬ اور ٫٫باغي هندوستان٬٬به اضافه مطبوعه 88ئ سے نقل كيے گئے هيں۔ هم نے كهيں ايك حواله درج كرنے پر اكتفا كيا هے ۔

جھوٹے مدعیان نبوت   عن  ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال لا تقوم الساعۃ حتٰی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول ...