23.6.11

اقبال اور قادیانیت

اقبال اور قادیانیت

ڈاکٹر ایوب صابر



اقبال ہندی وطنی قومیت کے علم بردار تھے اور چند برسوں کے دوران اس کی حمایت اور اس کے فروغ کے لیے متعدد پر تاثیر نظمیں لکھی تھیں لیکن جلد ہی اسے ترک کر کے اسلامی قومیت کے نقیب بن گئے۔ اسی طرح وحدت الوجود کے خلافِ اسلام نظریے کو ترک کرنے کے لیے اقبال نے زیادہ وقت نہ لیا لیکن قادیانیت کا مسئلہ مدتوں تک ان کی خاص توجہ کا مرکز نہ بن سکا اور ایک صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے انھوں نے بہت عرصہ لیا۔ اگرچہ اقبال ابتدا سے عقیدۂ ختمِ نبوت اور تصوّرِ جہاد کے علم بردار تھے اور مسیح موعود بلکہ مجدد کے تصوّر کو بھی نہیں مانتے تھے لیکن قادیانیت کا بنظرِ غائر مطالعہ نہ کرنے کے سبب عرصے تک مرزائیوں کو مسلمانوں کافرقہ سمجھتے رہے۔ اور جب اس مسئلے پر غور کرنے کے اسباب جمع ہوئے تو اقبال نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ اب اقبال پر دو طرح کے اعتراضات وارد ہوئے۔ بعض اقبال مخالف مسلمانوں اور غیر مسلموں نے اس بات کو اچھالا کہ اقبال قادیانیت کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ دوسری طرف مرزائیوں نے اعتراض کیا کہ اقبال نے ۱۹۳۵ء میں انھیں غیر مسلم کیوں قرار دیا جبکہ اس سے پہلے ان کا قادیانیت سے ’’گہرا تعلق‘‘ تھا اور ۱۹۳۵ء تک وہ انھیں مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھتے تھے۔
کشمیر کمیٹی ۱۹۳۱ء میں قائم ہوئی۔ اس کے سربراہ امامِ جماعتِ احمدیہ مرزا بشیرالدین محمود تھے۔ اقبال کو اس کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مرزائیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو وہ ان کے مخصوص رویے، عقیدے اور عزائم سے واقف ہوئے۔ احرار اور قادیان کی باہمی آویزش کے باعث قادیانی مسئلہ اہمیت اختیار کر گیا، چنانچہ اس وجہ سے بھی اقبال کو اس طرف توجہ مبذول کرنا پڑی۔ اقبال نے قادیانیت کا بنظرِ غائر جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ مرزائی مسلمان نہیں ہیں اور جب گورنر پنجاب نے انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں مسلمانوں کے باہمی افتراق اور قیادت کے فقدان پر افسوس ظاہر کیا اور مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیا تو مئی ۱۹۳۵ء میں اقبال کا قادیانیت کے خلاف پہلا مضمون شائع ہوا۔ ۱؂ اس مضمون کا منظر عام پر آنا تھا کہ قادیانیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ اقبال شکنی کی کوششوں میں لگ گئے۔
اس مضمون میں اقبال نے وضاحت کی کہ مسلمانوں کی وحدت صرف دینی تصور پر استوار ہے اور مسلم معاشرے کو ختمِ نبوت کا عقیدہ ہی سالمیت کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر ان میں کوئی ایسا گروہ پیدا ہو جو اپنی اساس ایک نئی نبوت پر رکھے اور بزعمِ خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لیے خطرہ تصور کرے گا۔ اگر کسی قوم کی وحدت کو خطرہ لاحق ہو تو اس کے لیے اس کے سوا اور چارۂ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ پھر کیایہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے جبکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری آزادی ہو اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔
چند روز بعد اقبال نے لکھا کہ میں نے حکومت کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ قادیانی تحریک کا بہ جبر انسداد کرے۔ میری رائے میں حکومت کے لیے بہترین طریقِ کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہو گا اور مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔ ۲؂
اس سے پہلے ۱۹۳۴ء میں مجلس احرارِ اسلام کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ’’آل انڈیا احرار کانفرنس‘‘ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ہو چکا تھا۔ ۳؂ علامہ اقبال کی تجویز ہر اعتبار سے مبنی بر انصاف تھی لیکن اس کا سخت ردِ عمل ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ مرزائی خود تو مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے لیکن مسلمانوں نے انھیں غیر مسلم قرار دیا تو انھیں یہ بات ناگوار گزری، چنانچہ علامہ اقبال پر اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس ضمن میں متعدد مضامین روزنامہ ’’الفضل‘‘ میں شائع ہوئے۔ قادیانی جماعت کے امام نے بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ ۱۹۳۵ء سے پہلے ڈاکٹر سر اقبال احمدیوں کومسلمان سمجھتے تھے۔ اب کیوں انھیں محسوس ہوا کہ احمدیوں کو الگ کر دینا چاہیے۔ لاہوری جماعت کے سربراہ نے ایک انگریزی رسالہ شائع کیا جس میںیہ موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ موصوف نے اقبال کے اس بیان پر سخت تنقید کی کہ امام منتظر کا تصور مجوسی مذاہب کے ساتھ مخصوص ہے۔ ۴؂ بقول سید نذیر نیازی ہفتہ وار اخبار ’’لائٹ‘‘ نے یہ رائے ظاہر کی کہ ’’یہ جو حضرتِ علامہ کہتے ہیں کہ بابِ نبوت مسدود ہے یہ دراصل مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔۔۔ اقبال عقل کو نبوت پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ مغرب زدگی نہیں تو اور کیا ہے؟ ۵؂ یہ اعتراضات علامہ اقبال کے پانچویں خطبے پر تھے۔ اخبار ’’سن رائز‘‘ نے اقبال پر تناقض کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ پہلے تو اقبال جماعتِ احمدیہ کی تعریف کرتے تھے لیکن اب اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں۔ روزنامہ ’’اسٹیٹس مین‘‘ میں ایک پارسی نے احتجاج کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام نے، مجوسی تہذیب سمیت قدیم تہذیبوں سے استفادہ کیا ہے۔ اقبال کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوسی تہذیب کا کوئی پہلو قابل تعریف نہیں۔ مذکورہ روزنامے نے اپنے اداریے میں چند اہم سوالات اٹھائے جن کا اقبال کی طرف سے جواب بھی اسی روزنامے میں شائع ہوا۔ ۶؂
یہ مباحث جاری تھے کہ جواہر لال نہرونے مرزائیوں کی حمایت میں قلم اٹھایا۔ ’’ماڈرن ریویو‘‘ کلکتہ میں ان کے تین مضامین شائع ہوئے۔ جواب میں علامہ اقبال نے ایک زبردست بیان دیا جس نے آگے چل کر ایک مضمون کی شکل اختیار کر لی اوریہ مضمون ’’اسلام اینڈ احمد ازم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ علامہ کے بیان اور اس مضمون کا پس منظر بیان کرتیہوئے سید نذیر نیازی نے لکھا ہے کہ مجلسِ احرار اور جماعتِ احمدیہ کے نزاع سے پنجاب کی فضا مکدّر تھی۔ کشمیر کمیٹی کے اندر اور باہر یہ احساس تھا کہ اس کے کچھ عناصر مسئلہ کشمیر کے بجائے اپنے ذاتی اور جماعتی مقاصد کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ اس خیال سے یہ سوال تازہ ہو گیا کہ مسلمانوں کی وحدت کا حفظ و استحکام کس اصول پر ہے۔ لوگ اس سوال کا جواب مذہبی یا سیاسی پہلو سے دیتے تھے جس سے یہ مسئلہ الجھتا چلا گیا۔ اقبال کومذکورہ بیان (قادیانی اور صحیح العقیدہ مسلمان) دینا پڑا جس میں تشریح کی گئی کہ سیاسی، اجتماعی اور مذہبی اعتبار سے وحدتِ امت کی یہ اساس کس اصول پر ہے۔ اس بیان کا شائع ہونا تھا کہ طرح طرح کے سوال پیدا ہونے لگے اور ملک بھر کے روزناموں اور رسائل و جرائد نے اس پر رائے زنی شروع کر دی۔ یہ اس لیے کہ اقبال نے ایک ایسے نزاع کا سلسلہ جو بظاہر مذہبی عقیدے تک محدود تھا، سیاست و اجتماع سے جوڑ دیا۔ انھوں نے وحدتِ امت کی جو تعبیر کی وہ کانگریس کے ہندی قومیت والے نظریے سے متصادم تھی لہٰذا بیان شائع ہوا تو پنڈت جواہر لال نہرو خاموش نہ رہ سکے۔ ۷؂ نہرو نے جو سوالات اٹھائے تھے، اقبال نے ایک مضمون میں ان کا جواب دیا۔ ۸؂ نہرو نے مزید کوئی مضمون نہ لکھا۔ نہرو کے ایک خط کے جواب میں اقبال نے اس بنا پر کہ برطانوی حکومت سے وفاداری کے نظریے کو الہامی تائید فراہم کرنے کی غرض سے احمدیت ظہور میں آئی، قادیانیوں کو اسلام اور ہندوستان دونوں کا غدار قرار دیا۔ ۹؂
’’اسلام اینڈ احمد ازم‘‘ کے جواب میں ’’ الفضل‘‘ قادیان نے چودہ قسطوں پر مشتمل سلسلۂ مضامین شائع کیا۔ قادیانیوں کے انگریزی پرچے (Review of Religions) کے ایک خصوصی شمارے میں ایک مضمون بعنوان ’’ڈاکٹر محمد اقبال اور تحریکِ احمدیت‘‘ شائع ہوا جس میں یہ اعتراض کیا گیا کہ اقبال نے اپنے بیان میں ایسے نظریات پیش کیے جنھیں ان کے مداحوں نے بھی غلط کہا ہے مثلاً اقبال نے کہا ہے کہ غلام قوموں کے انحطاط کے نتیجے میں الہام جنم لیتا ہے۔ اس خیال کو شعر میں یوں باندھا ہے:
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارتِ گرِ اقوام ہے وہ صورتِ چنگیز
جبکہ اکثر انبیا کرام محکوم اقوام ہی میں مبعوث کیے گئے۔ نبوت کی صداقت کا معیار حاکمیت یا محکومیت نہیں ہے بلکہ خود الہام کی نوعیت پر ہے۔ ۱۰؂ اقبال کا مضمون ’’جنوری ۱۹۳۶ء میں شائع ہوا تھا۔ فروری ۱۹۳۶ء میں قادیانیوں کے اخبار ’’لائٹ‘‘ کے مدیر نے اقبال کی ذات پر حملہ کیا۔ انجمن حمایتِ اسلام میں قادیانی ارکان بھی تھے اور اس وجہ سے انجمن کی ساکھ خراب ہو رہی تھی۔ انجمن کے صدر علامہ اقبال تھے۔ انھوں نے ارکانِ انجمن کو مشورہ دیا کہ مرزائیت کے ضمن میں انھیں اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے اور جب ختم نبوت کے ضمن میں ایک قرار داد پیش کی گئی تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ (انجمن کے اہم قادیانی رکن) نے جوش میں آکر اور کھڑے ہو کر کہا: ’’مجازی رنگ میں نبی آ سکتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر موصوف سے اختلاف کیا گیا اور وہ غصے کی حالت میں اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ نو دن بعد ان پر فالج کا حملہ ہوا جس سے ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کو بہانہ بنا کر مدیر ’’لائٹ‘‘ نے افتتاحیے میں لکھا:
’’ایک بہترین صبح کو ڈاکٹر محمد اقبال نے یہ خیال کیا کہ مرزا یعقوب بیگ کافر ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد اقبال نے انجمنِ حمایت اسلام کو چیلنج بھیج دیا کہ مرزا یعقوب بیگ کو الگ کر دیا جائے جیسا کہ وہ اس احسان فراموش اوربے ضمیر کتوں کی جماعت میں بوجہ اپنی شرافت کے رہنے کے قابل نہ تھا۔ خدا نے اس کو اپنی طرف بلا لیا۔ ہم ڈاکٹر اقبال صاحب اور اس کے رہزن گروپ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اب گندا آدمی دنیا میں نہیں رہا اور ڈاکٹر صاحب انجمن کی کرسئ صدارت کو زینت بخشیں۔‘‘ ۱۱؂
مرزائیت کے خلاف اپنی تحریروں کے باعث علامہ اقبال، بقول ڈاکٹر جاوید اقبال، ’’احمدیوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے‘‘ ۱۲؂ چنانچہ اقبال کو ہدفِ تنقید بنایا گیا اور ان کے انہدام کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ اقبال پر قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ۱۹۳۵ء تک ان کا قادیانیت سے ’’گہرا تعلق‘‘ رہا اور وہ انھیں ’’مسلمان‘‘ سمجھتے رہے لیکن ۱۹۳۵ء میں ان کی قلب ماہیت ہو گئی اور انھوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ یہ اعتراض، گزشتہ نصف صدی کے دوران، بار بار مختلف تفصیلات کے ساتھ دہرایا گیا۔ چنانچہ ’’زندہ رود‘‘ کی تصنیف کے دوران شیخ اعجاز احمد نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو ایک تحقیقی نوٹ تیار کر کے بھیجا جس میں بارہ دلائل اس ضمن میں ہیں کہ ۱۹۳۵ء کے آغاز تک علامہ اقبال کے نزدیک احمدی دائرہ اسلام سے خارج نہ تھے۔ پھر ان کی رائے میں احمدی جماعت کیوں ایکا ایکی دائرہ اسلام سے یکسر خارج ہوگئی۔ ۱۳؂ شیخ اعجاز احمد نے یہ دلائل ’’مظلوم اقبال‘‘ میں بھی درج کیے ہیں۔ ان کے خیال میں اقبال کی رائے میں تبدیلی کی ’’وجہ کانگریس۔ احرار سازش کے تحت احرار کا دباؤ اور ان کی ریشہ دوانیاں تھیں۔ سازشیوں کی خوش قسمتی سے انھی دنوں ایک ذاتی معاملہ میں علامہ کا احساس محرومی بھی شامل ہو گیا جس کی وجہ سے احمدیت کے خلاف ان کے بیانات میں وہ شدت اور تلخی در آئی جو عام طور پر ان کے شیوہ کے مطابق نہ تھی‘‘۔ ۱۴؂ شیخ اعجاز احمد کے اس دعوے کا سیر حاصل جواب ڈاکٹر جاوید اقبال نے ’’زندہ رود‘‘ میں دیا ہے ۱۵؂ تاہم شیخ اعجاز احمد نے ’’مظلوم اقبال‘‘ میں اس سے کوئی تعرض کیے بغیر اپنے دعوے کو دہرا دیا ہے۔ شیخ عبدالماجد نے ’’زندہ رود‘‘ کے متعلقہ مباحث کے جواب میں پوری کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے ’’اقبال اور احمدیت۔ زندہ رود پر تبصرہ‘‘ایک اخبار کے مدیرنے اپنے تبصرے میں، جو کتاب میں شامل ہے، ڈاکٹر جاوید اقبال کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی کتاب کے ’’اقبال اور احمدیت‘‘ سے متعلقہ حصوں پر نظر ثانی کریں یا پھر شیخ عبدالماجد کی تحریر کا جواب لکھیں۔ ۱۶؂ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس مشورے پر عمل نہیں کیا۔ البتہ ڈاکٹر وحید عشرت نے شیخ موصوف کی کتاب پر قلم اٹھایا۔ ہفت روزہ ’’مہارت‘‘ میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ شیخ عبدالماجد نے جوابی مضامین لکھے۔ دونوں صاحبان کا ’’مہارت‘‘ کے صفحات پر معرکہ گرم رہا۔ اس سلسلے کے اپنے آخری مضمون کے ذریعے جھوٹ سچ کا فیصلہ دنیا پر چھوڑتے ہوئے، ڈاکٹر وحید عشرت نے بحث کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس بحث سے شیخ عبدالماجد کویہ فائدہ ہوا کہ انھوں نے ’’فکرِ اقبال اور تحریکِ احمدیہ‘‘ کے نام سے ایک اور کتاب تیار کر لی جس کے متعدد ابواب ’’اقبال اکیڈمی کے پی ایچ ڈی محقق کے شکوک کے ازالہ‘‘ کے عنوان سے شاملِ کتاب ہیں۔ ۱۷؂
ڈاکٹر وحید عشرت ’’اقبال اور احمدیت‘‘ پر گہری نگاہ ڈالتے تو قدم قدم پر ’’جھوٹی نبوت‘‘ کی طرح ’’جھوٹی تحقیق‘‘ عیاں ہو جاتی۔ ۱۸؂
شیخ عبدالماجد نے اقبال کے خاندانی پس منظر کو احمدیت سے منسوب کیا ہے۔ ایک طرف عیسائی اقوام کو یاجوج ماجوج قرار دیا ہے اور دوسری طرف انگریز حکمرانوں سے مرزا غلام احمد کی وفاداری کو جائز قرار دیا ہے۔ اس جواز کے لیے ’’علامہ اقبال اور انگریز حکمران‘‘ کے عنوان سے ’’انگریزی حکومت سے اقبال کی وفاداری کا پینتیس سالہ ریکارڈ‘‘ پیش کیا ہے۔ ’’اقبال نئے مسیحا کی آمد کے متمنی تھے‘‘ اور ’’علامہ نے احمدیوں کے خلاف ۱۹۳۵ء سے قبل زبان کیوں نہ کھولی؟‘‘ جیسے عنوانات بھی قائم کیے ہیں۔ آخری باب میں اقبال کی شخصیت پر اعتراضات ہیں اور اس ضمن میں سردار عبدالقیوم کے تاثرات بھی بیان کیے ہیں۔ ’’فکرِ اقبال اور تحریکِ احمدیہ‘‘ کے سرورق پر ’’موافقت چالیس سال۔ مخالفت تین سال‘‘ اور ’’علامہ اقبال کی برطانیہ سرکار کے ساتھ وفاداریاں‘‘ جیسے عنوانات بھی قائم کیے ہیں۔ بیسویں باب میں ’’دنیا بھر کے ماہرین اقبالیات کو ’’دعوتِ تحقیق‘‘ دی ہے اور یوسف سلیم چشتی کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ ’’اقبال ۱۹۱۱ء تک کٹر مرزائی اور مرزا صاحب کے مخلص متبع تھے۔‘‘ ۱۹؂
اقبال کا ’’احمدیت سے گہرا تعلق‘‘ ثابت کرنے کے لیے شیخ عبدالماجد نے زورِ تحقیق صرف کیا ہے۔ اس سے پہلے شیخ عبدالمالک اور شیخ نور احمد منیر، وغیرہ بھی یہ موقف پیش کر چکے تھے۔ اس کا ایک مقصد تو مرزائیت کو تقویت پہنچانا ہے اور دوسرا مقصد علامہ اقبال کو مسلمانوں کی نگاہوں میں گرانا ہے۔ اقبال کی شخصیت اور افکار پر اعتراضات کا بھی یہی مقصد ہے۔ اقبال کو مفکر و مصورِ پاکستان کے اعزاز سے محروم کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ شیخ عبدالماجد کا دعویٰ یہ ہے کہ خطبہ الٰہ آباد امام جماعت احمدیہ کی ۱۹۲۸ء میں پیش کی گئی ’’کامل خود اختیاری‘‘ کی تشریح و تعبیر ہے اور یہ کہ اس کا تقسیم ہند سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے:
’’خطبہ الٰہ آباد کا تقسیم ہند سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ ’’حضرت امامِ جماعتِ احمدیہ کی تجویز‘‘ کے زیر عنوان لکھا ہے: ’’پانچ مسلم صوبے فیڈریشن کے اصول پر ہندوستان سے ملحق رہیں اور ہندو صوبے مضبوط مرکزی حکومت کے ماتحت رہیں۔‘‘ ۲۰؂
پروفیسر کے کے عزیز نے یہ ثابت کرنے کے لیے بڑی محنت کی ہے کہ تصورِ پاکستان اقبال کا نہیں ہے۔ موصوف کا قادیانیت کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں اس ضمن میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ اقبال کو منہدم کرنے کا ان کا جذبہ البتہ بہت قوی ہے۔ ’’لبرٹی‘‘ کے مدیر انور شیخ کے دین و ایمان کا بھی پتا نہیں چلتا۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’اقبال غارت گر ملت‘‘ میں ہندی قومیت کی حمایت کی ہے اور علامہ اقبال کے کردار کی دو خصوصیات متعین کی ہیں۔ ایک ’’ہندو دشمنی‘‘ اور دوسری ’’مرزا غلام احمد قادیانی سے رقابت اور جنونِ خود نمائی‘‘ ۲۱؂ انور شیخ نے کہیں بھی مرزا غلام احمد کے نام کے ساتھ ’’حضرت‘‘ قسم کا لفظ نہیں لکھا تاہم مذکورہ مضمون کا ماخذ قادیانی لٹریچر خصوصاً شیخ عبدالماجد کی کتاب ’’اقبال اور احمدیت‘‘ ہے۔ دونوں شیوخ میں فرق یہ ہے کہ انور شیخ نے اقبال کے خلاف دریدہ دہنی سے کام لیاہے۔ ’’لبرٹی‘‘ کے ایک اور مضمون نگار محمد احمد جامی نے ’’اقبال۔ ایک متنازعہ شخصیت‘‘ کے زیر عنوان ’’الفضل‘‘ کے حوالے سے کے کے عزیز کا ایک بیان نقل کیاہے۔ انھیں شکایت یہ ہے کہ کوتاہ بین حضرات کوئی ایسی بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے جو انھیں علامہ اقبال اور قائداعظم کے ضمن میں بے علمی یا اندھی عقیدت کے باعث نا پسند ہو۔ انھوں نے اپنے موقف میں وزن پیدا کرنے کے لیے کے کے عزیز کا بیان نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ایک نامور تاریخ دان پروفیسر کے کے عزیز نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے عوام جذباتی ہیں۔ انھیں مشتعل کرنے کے لیے کسی نیم خواندہ صحافی کا کالم یا ناخواندہ مولوی کی ایک تقریر کافی ہے۔ چرچل، نپولین، واشنگٹن سب پر تنقید ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہیرو تنقید سے مبرا ہیں‘‘ (بحوالہ الفضل پاکستان۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۴ء) واضح رہے کہ پروفیسر عزیز پنجاب، لندن، ہائڈل برگ اور خرطوم کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر رہ چکے ہیں۔ ۲۲؂
غور طلب بات یہ ہے کہ بانیانِ پاکستان پر ’’تنقید‘‘ کو ایک مہم کے طور پر زندگی کا مقصد بنا لینے کا جواز کیا ہے؟ کیا دنیا میں کرنے کے لیے اور کوئی مفید کام نہیں ہے؟ ’’لبرٹی‘‘ والوں اور کے کے عزیز کا اصل مسئلہ کچھ اور ہے ’’الفضل‘‘ کا حوالہ اس راز سے پردہ اٹھاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے اور حواشی
(۱) مضمون کا عنوان ہےQadianis and Orthodox Muslims یہ مضمون متعدد جرائد و اخبارات میں شائع ہوا۔ اپنے خط بنام سید نذیر نیازی مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۳۵ء میں اقبال لکھتے ہیں کہ ’’وہ مضمون جو آپ نے دکن ٹائمز میں دیکھا ہے قریباً تمام انگریزی اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز، ٹریبون، سٹیٹس مین، سٹار آف انڈیا کلکتہ، علاوہ اس کے اردو اخباروں میں اس کا ترجمہ بھی شائع ہوا ہے۔ ۱۴ مئی کے سٹیٹس مین نے۔۔۔ اس کے اوپر لیڈنگ آرٹیکل بھی لکھا ہے (مکتوباتِ اقبال، صفحات ۳۷۲۔۳۷۳) اس نتیجے تک فکرِ اقبال کی رسائی بتدریج ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو مسئلہ قادیانیت کی سنگینی کا احساس مولانا انور شاہ کشمیری نے دلایا۔
(۲) دیکھیے (i) Thoughts and Reflections of Iqbal ، مرتبہ ایس اے واحد(ii) Speeches and statements of Iqbal (نیز ’’حرفِ اقبال‘‘۔ اردو ترجمہ از شروانی) مرتبہ لطیف احمد شروانی (iii) Discourses of Iqbal ، مرتبہ شاہد حسین رزاقی۔
(۳) تفصیل کے لیے دیکھیے نقوشِ جاوداں، زاہد منیر عامر صفحہ ۱۳۲
(۴) تفصیل اور حوالوں کے لیے دیکھیے، اقبال اور احمدیت، بشیر احمد ڈار، صفحات ۴۹ تا ۵۳
(۵) مکتوباتِ اقبال، سید نذیر نیازی، صفحہ ۳۰۰
(۶) ’’سٹیٹس مین‘‘ کا اہم ترین سوال یہ تھا کہ ایک مذہبی ملت کے اندرونی اختلافات کی طرف حکومت کہاں اور کب توجہ کرے ؟ اقبال کا جواب یہ تھا کہ سکھوں کے مطالبے کا انتظار کیے بغیر حکومت نے ۱۹۱۹ء میں انھیں ہندوؤں سے الگ جماعت تسلیم کر لیا۔ ایسا ہی وہ قادیانیوں کے معاملے میں کر سکتی ہے۔ ایران میں بہائیوں نے ختمِ نبوت کے اصول کو جھٹلایا لیکن ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا تو وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور یا ختم نبوت کے اصول کو تسلیم کریں اور اس ضمن میں تاویلات کو ترک کر دیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، ’’اقبال اور احمدیت‘‘ ڈار، صفحات ۶۲تا ۶۵)
(۷) دیکھیے مکتوباتِ اقبال مرتبہ سید نذیر نیازی‘ صفحات ۳۱۰ تا ۳۱۲
(۸) یہ مضمون بھی سید عبدالواحد اور لطیف احمد خان شروانی کے مجموعوں میں شامل ہے۔ اردو ترجمہ ’’حرفِ اقبال‘‘ میں ہے۔ دونوں مضامین کا اردو ترجمہ (مع ان مضامین کا پس منظر) ’’اقبال اور احمدیت‘‘ از بشیر احمد ڈار میں شامل ہے۔
(۹) دیکھیےThoughts and Reflections of Iqbal صفحہ ۳۰۶ نیز Speeches and Statements of Iqbal صفحہ ۲۴۱
(۱۰) ’’تاریخ احمدیت‘‘ صفحات ۱۹۷۔۱۹۸ بحوالہ ’’اقبال اور احمدیت‘‘ بشیر احمد ڈار، صفحات ۱۱۲۔۱۱۳
(۱۱) تفصیل کے لیے دیکھیے، اقبال اور انجمنِ حمایتِ اسلام، محمد حنیف شاہد، صفحات۱۳۱ تا ۱۳۶
(۱۲‘ ۱۳) زندہ رود، صفحات ۵۶۹،۵۷۵
(۱۴) مظلوم اقبال، ۱۹۵ تا ۱۹۹
(۱۵) دیکھیے زندہ رود، صفحات ۵۶۹ تا ۵۹۰
(۱۶) اقبال اور احمدیت، شیخ عبدالماجد، صفحہ ۲۴
(۱۷) تفصیل کے لیے دیکھیے، ’’فکرِ اقبال اور تحریک احمدیہ‘‘ کا پہلا، چوتھا، ساتواں اور آٹھواں باب۔
(۱۸) شیخ موصوف کی ’’تحقیق‘‘ کا انداز حسبِ ذیل مثال سے واضح ہے:
شیخ عبدالماجد کے بقول ’’بان�ئ سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں علامہ سنجیدگی سے اسی بات کے قائل تھے کہ تلوار کے دن لد چکے اب قلم کا دور دورہ ہے۔ اب قلم ہی سیف کا کام دکھاتی ہے۔ چنانچہ قلم کی کشور کشائی کے منکروں کو سمجھانے کے لیے آپ نے ۱۹۰۲ء میں انجمنِ حمایت اسلام کے اجلاس میں پڑھی جانے والی نظم میںیہ شعر شامل کیا:
تیغ کے بھی دن کبھی تھے اب قلم کا دور ہے
بن گئی کشور کشا یہ کاٹھ کی تلوار کیا
(اقبال اور احمدیت‘ صفحہ ۱۷۱)
اس شعر کے آخر میں جو سوالیہ نشان ہے اسے عبدالماجد نے حذف کر دیاہے (دیکھیے اقبال کا ابتدائی کلام‘ مرتبہ گیان چند‘ صفحہ ۱۵۷) جس بند میں یہ شعر ہے اس کے جملہ دس اشعار کے آخر میں سوالیہ نشان ہے۔
(۱۹) ’’فکرِ اقبال اور تحریکِ احمدیہ‘‘ صفحہ ۳۸۴
(۲۰) اقبال اور احمدیت‘ صفحات ۲۴۱ تا ۲۴۴
(۲۱‘۲۲) دیکھیے‘ ’’لبرٹی (کارڈف) جنوری ۱۹۹۸ء‘ صفحات ۱۴‘۲۶

8.6.11

سیدنا حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ

4-RAJAB-UL-MURAJJAB  Urs of Hazrat Imam Shafi'ee (Radi Allahu anhu) 
 سیدنا حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مختصر تعارف
Inside View of Masjid of Hazrat Imam Shafi Radi Allahu Anhu

آپ کا نام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس ہے آپ قریشی ہیں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے جد اعلٰی عبد مناف سے آپ کا نسب جا کر ملتا ہے ۔ 


آپ کی ابتدائی عمر علم و ادب تاریخ میں گزری ، آپ کی ولادت 150ھ میں ہوئی ۔
آپ کی فہم وذکاوت اور حسن استعداد کو دیکھ کر مسلم بن خالد زیخی نے آپ کو فقہ کی ترغیب دی ، آپ 13 سال کی عمر میں امام مالک علیہ الرحمۃ کے ہاں پہنچے تو اس وقت ان کی مؤطا حفظ کر چکے تھے ۔
آپ ایک دفعہ ہارون رشید ( خلیفہ ) پر طعن کرنے کے الزام میں گرفتار ہو کر آئے ، دربار میں امام محمد علیہ الرحمۃ موجود تھے اس الزام میں دو شخصوں کے سوا تمام لوگ قتل کر دئیے گئے ایک علوی دوسرے امام شافعی علیہ الرحمۃ ،علوی پر بھی الزام ثابت ہوگیا تو وہ بھی قتل کر دئیے گئے ، امام شافعی علیہ الرحمہ نے اپنی برآت بیان کی تو امام محمد علیہ الرحمۃ نے ان کی تصدیق فرمائی ، ہارون رشید نے امام محمد علیہ الرحمۃ کی تصدیق پر امام شافعی کو آزاد کردیا ، اس طرح وہ قتل سے بچ گئے گویا یہ امام محمد علیہ الرحمہ کا امام شافعی علیہ الرحمۃ پر بڑا احسان ہے نہ صرف ان پر بلکہ تمام شوافع پر تاقیامت کہ ان کی جان بچائی ، ( انوار الباری ج1،ص35)
نوٹ !
یہ امام محمد حضرت امام ابو حنیفہ کے شاگرد مشہور ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ امام شافعی امام محمد کے شاگرد بھی ہیں اور کافی مدت تک ان کے ز یر سایہ بھی رہے ۔
آپ اپنے ابتدائی علم کے حالات بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداء زمانہ میں یہ حال تھا کہ استاد کو اجرت دینے کے لئے کچھ نہ تھا چنانچہ اس شرط پر کہ میں ان کے جانے کے بعد باقی شاگردوں کو دیکھا کروں گا علم حاصل کرنا شروع کیا قرآن پڑھنے کے بعد علم حدیث کے حلقوں میں بیٹھنا شروع کیا اور جو حدیث سنتا یاد ہو جاتی اس وقت میں کاغذ بھی نہیں خرید سکتا تھا اور چکنی ہڈیاں ڈھونڈتا اگر مل جاتیں تو ان پر لکھ کر انھیں گھر کے پرانے گھڑے میں احتیاط سے رکھ لیتا ۔
کسی نے حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میری بیوی کے پاس ایک کھجور تھی میں نے اس کو کہہ دیا کہ اگر کھجور کھائے تو بھی طلاق اور اگر نہ کھائے تو بھی طلاق ، بتائیں اب میں کیا کروں ؟
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں آدھی کھجور کھالے اور آدھی پھینک دے ۔
آپ کی وفات بعمر 54سال 204ھ میں ہوئی بعد وفات امام شافعی کو ربیع بن مرادی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا اللہ تعالٰی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا فرمایا ، مجھے ایک سنہری کرسی پر بٹھا کر میرے اوپر تازہ تازہ موتیوں کی لڑی بکھیری ۔( انوار الباری جلد 1 ص
142

فیضانِ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ غریب نواز کے حالات و کرامات
khwaja garib nawaz ajmer
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ذی الحجہ کا مہینہ تھا پانچ سو تراسی سن ہجری اور گیارہ سو ستاسی عسیوی تھی، مکۃ المکرمہ کی سر زمین پر میدان محشر کا سا سماں تھا، چہار دانگ عالم سے فرزندان توحید اپنے معبود حقیقی کے اس فرمان “واتموا الحج والعمرۃ للہ، کی تعمیل کیلئے سر نیاز خم کئے سیل رواں کی طرح جوق در جوق جمع ہو گئے تھے ایک ہی ترانہ جو ہر زبان پہ جاری تھا ایک ہی آواز جس سے مکۃ المکرمہ کی فضا گونج رہی تھی وہ مقدس ترانہ یہ تھا، “لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک“ خالق کائنات جل جلالہ کے یہ وفا شعار بندے دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہر کر مناسک حج کی ادائیگی میں مصروف تھے لیکن ایک خلش جو دلوں کو بے چین کر رہی تھی وہ تھی روضۃ الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حاضری کیونکہ ہادی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے در اقدس ہی تو اصل مراد اور قبولیت کا پروانہ ہے جیسا کہ سیدی اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں
 اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دئیے
 اصل مراد حاضری اس پاک در کی ہے
 بشارت :۔
 آخر وہ لمحہ جانفزا آ ہی گیا جب حجاج فرائض حج سے فراغ ہو کر اپنا مال و متاع اونٹوں پر لاد کر دیوانہ وار عشق و مستی میں سرشار جانب طیبہ قافلہ در قافلہ کوچ کرنے لگے اور اپنے غمخوار آقا کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کرنے لگے انہی میں ایک خوب رو، خوش قامت، عاشق رسول تھا جس کی عمر تاریخ میں اس وقت چھیالیس سال بتائی جا رہی ہے اور حالت یہ تھی برہنہ سر، آنکھیں نم اور کثرت سفر کی وجہ سے پاؤں میں چھالے ہیں لیکن صورت بتا رہی تھی یہ کوئی اللہ والے ہیں۔ اپنے محسن آقا کی بارگاہ میں ہر کوئی اپنا درد دل بیان کر رہا تھا لیکن محبوب رب العالمین کا یہ عاشق ان سب سے بے نیاز ہو کر اپنے معبود حقیقی کی عبادت و ریاضت میں مشغول تھا اچانک گنبد خضرٰی سے آواز آئی۔ اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی وہاں کفر و ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے ظلمت کفر دور ہو گی اور اسلام رونق پذیر ہوگا۔“ ہر دل مخمور اور ہر چہرہ مسرور تھا اگر کسی چہرے پر پریشانی کی لکیر اور تکفرات کی سلوٹیں نمایاں تھیں تو وہ اسی عاشق رسول کا چہرہ تھا کیونکہ سلوک و معرفت کا یہ محبتوں بھرا تحفہ اسی کو عطا کیا گیا تھا۔ یہ مژدہ دلنواز اسی کو سنایا گیا تھا۔ آخر خوشخبری پہ خیران کیوں ؟ جب یہ سوال تاریخ کے ورق الٹنے والے مؤرخوں سے کیا گیا تو جواب ملا اس وجہ سے کہ وہ انجان تھا اس ملک سے۔ جس کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ شہر اجمیر کہاں ہے ؟ سمت سفر کیا ہو گی ؟ مدینہ سے مسافت کتنی ہے ؟ راستہ کے پیچ و خم کیا ہیں ؟ ابھی وہ انہی فکروں میں گم تھا کہ گنبد خضرٰی کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے اس پر غنودگی طاری کر دی خواب میں محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اپنے جمال جہاں آراء کے دیدار سے مشرف فرمایا اور ایک نظر میں مشرق سے مغرب تک سارے عالم کو دکھا دیا۔ تمام بلا و امصار نگاہوں کے سامنے تھے شہر اجمیر وہاں کا قلعہ اور پہاڑیاں نظر آنے لگیں۔ سرکار نے اپنے اس عاشق صادق کو ایک جنتی انار عطا فرما کر ارشاد فرمایا ہم تم کو خدا کے سپرد کرتے ہیں آنکھیں کھولیں تو ہندوستان کا پورا نقشہ پیش نظر تھا۔ چنانچہ تعمیل آقا کے لئے چالیس اولیاء کے ساتھ ہندوستان کا رُخ کیا۔
سفر ہند :۔
 مدینہ منورہ سے وہ عاشق صادق بغداد پہنچا جہاں کچھ دنوں مشائخین وقت سے صحبتیں رہیں پھر 586ھ / 1190ء کو بقصد اجمیر بغداد سے عازم سفر ہوا۔ دوران سفر چشت، خرقان، جہنہ، کرمان، استرآباد، بخارا، تبریز، اصفہان، ہرات، سبزہ وار ہوتا ہوا بلخ پہنچا جہاں کچھ ایام شیخ احمد خضریرہ کے یہاں قیام کیا۔ پھر بلخ سے روانہ ہو کر سمر قند ہوتا ہوتا غزنین پہنچا یہاں شمس العارفین عبدالواحد ‌ سے ملاقات کی اور کچھ دنوں روحانی صحبت گرم رہی پھر اپنے روحانی قافلہ کے ساتھ لاہور پہنچا حضرت ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار اقدس پر حاضری دی اور روحانی فیوض سے مالا مال ہوا جب روانہ ہونے لگا تو مزار مبارک پر یہ شعر پڑھا
 گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما
دہلی میں آمد :۔
لاہور سے سمانا ہوتا ہوا ہندوستان کی راجدھانی دہلی پہنچ کر راجہ کھانڈے راؤ کے راج محل کے سامنے ایک بت کدہ کے پاس قیام کیا اور اپنے اعلٰی اخلاق و کردار، سادہ مؤثر نصیحتوں سے راج کھانڈے راؤ کے کاریگروں اور بہت سے راجپوتوں کو کلمہ اسلام پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آنے لگے اور اسلام کا نور پھیلنے لگا، دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کی سر زمین پر مسلمانوں کا ایک وسیع حلقہ تیار ہو گیا چونکہ اس مرد مجاہد کی منزل مقصود اجمیر تھی اس لئے اپنے خلیفہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو دہلی میں خلق خدا کی ہدایت کے لئے چھوڑ کر عازم اجمیر ہو گیا۔
 اجمیر میں آمد :۔
 چند ثقہ مؤرخوں کے مطابق وہ مرد مجاہد 587ھ / 1191ء کو وارد اجمیر ہوا جہاں روز اول ہی سے باطن شکن کرامتوں کے ظہور نے ایک بوریہ نشیں درویش کی روحانی عظمت و قوت کا سکہ اہل اجمیر کے دلوں پر بٹھا دیا۔ اجمیر کے عوام و خواص کی کثیر تعداد شرک و بت پرستی کے قعر عمیق سے نکال کر فرمان باری تعالٰی ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کی ڈور سے منسلک ہونے لگی اور ایک وقت وہ آیا کہ شہر اجمیر کی پوری فضا کلمہ توحید سے گونجنے لگی۔ قبل ازیں کہ اس مرد خدا کی کچھ کرامتیں سپرد قرطاس کی جائیں نام و نسب اور ولادت و بچپن کا بیان بھی ضروری ہے۔
نام و نسب اور والدین :۔
تاریخ میں اس عظیم مرد مجاہد کا نام معین الدین بتایا جاتا ہے۔ جنہیں والدین پیار سے حسن کہا کرتے تھے اور غریب پروری کی وجہ سے غریب نواز کے نام سے مشہور ہوئے۔ پدر بزرگوار کا نام خواجہ غیاث الدین حسن ہے جو زہد و ورع، تقوٰی و طہارت میں ممتاز اور علم ظاہر و باطن سے بھی آراستہ تھے۔ یہ آٹھویں پشت میں حضرت موسٰی کاظم کے پوتے ہوتے ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب ہوں ہے:
سید معین الدین حسن بن غیاث الدین بن سید سراج الدین بن سید عبد اللہ بن سید عبد الکریم بن سید عبد الرحمن بن سید علی اکبر بن سید ابراھیم بن امام موسی کاظم بن امام جعفر الصادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن حضرت امام حسین بن حضرت علی المرتضی رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین
 
اور مادر مہربان کا نام بی بی ام الورع ہے جو بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں یہ بھی بلند کردار، پاکیزہ باطن خاتون تھیں، عبادت و ریاضت آپ کا محبوب مشغل تھا۔ چند واسطوں سے یہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پوتی تھیں۔ اس لئے حضرت خواجہ کی نجیب الطرفین سید کہا جاتا ہے۔ حضرت خواجہ حضرت غوث اعظم کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ اور ایک روایت کے مطابق آپ غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک رشتے سے ماموں زاد ہوتے ہیں۔
ولادت، بچپن اور تعلیم :۔
حضرت خواجہ کی ولادت با سعادت 537ھ 1142ء کو موضع سنجر علاقہ سبحستان (جسے سبستان بھی کہا جاتا ہے) میں ہوئی۔ آپ نے متقی و پارسا والدین کی آغوش تربیت میں پرورش پائی تھی اس لئے عام بچوں کی طرح آشنائے لہوو لعب نہ تھے۔ پیشانی مبارک پر لمعہ نور اور شائستہ اطوار اس امر کی غمازی کرتے تھے کہ آپ آگے چل کر غیر معمولی شخصیت اور فکر و عمل، صلاح و تقوٰی کا روشن مینار ہوں گے۔ ابتدائی تعلیم والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی۔ نو برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا پھر ایک مدرسہ میں داخل ہو کر تفسیر و حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور بہت قلیل مدت میں کثیر علم حاصل کر لیا۔
انقلاب اور تلاش حق :۔
جب عمر شریف پندرہ سال کی ہوئی تو والد کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا ترکہ پدری سے ایک باغ اور ایک پن چکی ملی تھی جس کو آپ نے ذریعہ معاش بنایا اور خوشگوار زندگی گزرنے لگی مگر قدرت نے آپ کو اپنی مخلوق کے دلوں کی باغبانی کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ چنانچہ ایک دن ایک مجذوب حضرت ابراہیم قندوزی باغ میں تشریف لائے اور ایک کھلی کا ٹکڑا کھلا کر دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا۔ فوراً حضرت خواجہ نے باغ اور پن چکی بیچ کر اس کی قیمت فقراء میں تقسیم کردی اور تلاش حق میں نکل پڑے۔ کئی مقامات سے گزرتے ہوئے قریہ ہارون پہنچے جہاں حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے آپ کو اپنے حلقہ اردات میں داخل فرما کر اپنی دو انگلیوں کے درمیان سے اوپر عرش اعظم اور نیچے تحت الثرٰی تک دکھا دیا۔ بیس سال تک اپنے مُرشد کی خدمت کرتے رہے یہاں تک کہ ایک دن پیرو مُرشد نے آپ کو ساتھ لیکر خانہ کعبہ کا سفر کیا۔ طواف و زیارت کے بعد ہاتھ پکڑ کر حق تعالٰی کے سپرد کردیا۔ جب زیر حطیم کعبہ مناجات کی تو ندا آئی “ہم نے معین الدین کو قبول کیا“ بعد ازاں بارگاہ آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر بحکم مُرشد حضرت خواجہ نے سلام عرض کیا تو روضہ انور سے اس طرح جواب ملا “وعلیکم السلام یاقطب المشائخ بروبحر“ یہ تو مُرشد برحق کے ساتھ کا واقعہ ہے لیکن جب دوسری مرتبہ اپنے مُرید خاص حضرت قطب الدین بختیار کاکی کو ساتھ لیکر حج و زیارت کے لئے تشریف لے گئے تو ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ حرم کعبہ کے اندر یادِ الٰہی میں مشغول تھے کہ ہاتف کی آواز سنی “اے معین الدین ہم تجھ سے خوش ہیں، تجھے بخش دیا، جو کچھ چاہے مانگ تاکہ عطا کروں“ اور جب روضہ انور کی زیارت کیلئے پہنچے تو یہ خوشخبری سنی “اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے ہندوستان کی ولایت میں نے تجھے عطا کی“ یہی وہ بشارت عظمٰی ہے جس سے میں نے اپنے مقالہ کا آغاز کیا تھا، اب لگے ہاتھوں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی چند بصیرت افروز کرامتیں بھی ملاحظہ فرمائیں۔
کرامات خواجہ ہندالولی :۔
دوران قیامِ بغداد ایک دن خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ شیخ وحدالدین، شیخ شہاب الدین سہروردی اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالٰی عنہم کی ایک مجلس میں تھے۔ انبیاء علیہم السلام کا ذکر خیر ہو رہا تھا کہ سامنے سے ایک بارہ سال کا لڑکا ہاتھ میں ایک پیالہ لئے جا رہا تھا (دوسری کتابوں میں تیرو کمان کا ذکر ہے) جب بزرگوں کی نگاہیں اس پہ پڑی تو حضرت خواجہ نے فرمایا، یہ لڑکا ایک دن دہلی کا بادشاہ بنے گا۔ چنانچہ یہی وہ لڑکا شمس الدین التمش کے نام سے دہلی کا بادشاہ گزرا ہے۔
زیارتِ کعبہ :۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ ہر سال زیارتِ کعبہ کے لئے بقوت روحانی اجمیر سے تشریف لے جاتے تھے جب کام پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ ہر شب بعد نمازِ عشاء کعبۃ اللہ شریف تشریف لے جایا کرتے تھے اور نمازِ فجر اجمیر میں ادا فرماتے تھے۔
رھزنوں کا تائب ہونا:۔
ایک مرتبہ حضرت خواجہ اپنے مُریدوں کے ساتھ ایک گھنے جنگل سے گزر رہے تھے کہ وہاں بسنے والے ڈاکوؤں نے آپ کے مُریدوں پر حملہ کر دیا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ نے جب نگاہِ جمال ان ڈاکوؤں پر ڈالی تو وہ کانپنے لگے اور قدموں میں گر پڑے۔ چھینا ہوا سامان واپس کیا اور آپ کے دستِ حق پرست پر سب کے سب مشرف باسلام ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے ان کو چند نصیحتیں فرمائیں۔ جو نہایت گارکر ثابت ہوئیں۔ سب نے رہزنی سے توبہ کی اور پوری عُمر دین حق پر کاربند رہے اور سچائی کا دامن کبھی بھی اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
مقتول زندہ ہو گیا :۔
حاکم وقت نے ایک بے قصور شخص کو پھانسی دی اس کی ماں روتی پیٹتی ہوئی خدمتِ خواجہ میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا بیٹا بے قصور تھا حضور مجھ پر کرم فرمائیں۔ آپ عصا لیکر اس کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ مقتول کے پاس پہنچ کر عصا سے اس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اگر تو بے نگاہ قتل کیا گیا ہے تو خدا کے حکم سے زندہ ہوجا اور دار سے نیچے اتر آ۔ مقتول یہ سنتے ہی زندہ ہو گیا اور سولی سے اتر کر آپ کے قدموں پر سر رکھا اور اپنی ماں کے ساتھ اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔
بُت پرستوں کا تائب ہونا :۔
کلمات الصادقین میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت خواجہ کا گزر کفار کے ایک بُت کدے کی طرف سے ہوا۔ اس وقت سات کافر بُت پرستی میں مشغول تھے آپ کا جمال جہاں آراء دیکھتے ہی بے بس ہو گئے اور قدموں میں آ کر گر گئے فوراً توبہ کی اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ آپ نے ان میں سے ایک کا نام حمیدالدین رکھ دیا۔ چنانچہ شیخ حمید الدین دہلوی ان سات حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے شہرت پائی۔
آتش پرستوں کا قبولِ اسلام :۔
 ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز صحرا سے گزرے وہاں آتش پرستوں کا ایک گروہ آگ کی پرستش میں مشغول تھا یہ لوگ اس قدت ریاضت و مجاہدات کرتے تھے کہ چھ چھ مہینے تک دانہ پانی زبان پر نہیں رکھتے تھے سرکار خواجہ نے ان لوگوں سے آتش پرستی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ آگ کو اس لئے پُوجتے ہیں کہ دوزخ میں یہ آگ ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ آپ نے فرمایا دوزخ سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں بلکہ نارِ دوزخ سے بچنے کیلئے خالق نار کی پُوجا کرو پھر یہ آگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تم لوگ اتنے دنوں سے آگ کی پوجا کرتے ہو ذرا اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر دکھاؤ ؟ ان لوگوں نے جواب دیا۔ آگ کا کام جلانے کا ہے، ہمارا ہاتھ تو جل جائے گا لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حق پرستوں کو آگ نہ جلائے گی۔ حضرت خواجہ نے فرمایا، دیکھو ہم خدا کے پرستار ہیں۔ یہ آگ ہمارے جسم کو تو دور کی بات ہماری جوتی کو بھی نہیں جلا سکتی۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی ایک جوتی آگ میں ڈال دی بہت دیر تک وہ آگ میں رہی مگر اس پر آگ کا ذرا سا بھی اثر نہ ہوا یہ دیکھ کر سب مسلمان ہو گئے۔
فریاد رسی :۔
 ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سلطان شمس الدین التمش کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مصروف سیر و تفریح تھے بعض امراء و اعیان سلطنت بھی ہمراہ تھے کہ ایک بدکار عورت نے بادشاہ کے حضور میں عرض کیا کہ آپ میرا نکاح کر دیں ورنہ عتابِ الٰہی میں گرفتار ہو جاؤنگی بادشاہ نے کہا تو کس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو عورت نے حضرت قطب الدین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس مرد سے جو قطب الاقطان بنے پھرتے ہیں (نعوذاللہ) انہوں نے میرے ساتھ حرام کی ہے اور یہ حمل (پیٹ کی طرف اشارہ کرکے) انہیں کا ہے۔ حضرت قطب صاحب کو یہ بیہودہ بات سن کر شرم و ندامت سے پسینہ آ گیا۔ بادشاہ و امراء ششدر رہ گئے۔ فوراً قطب صاحب نے اجمیر کی طرف منہ کرکے کہا “یا پیرو مُرشد میری مدد فرمائیے“ فوراً سامنے حضرت خواجہ تشریف لاتے دکھائی دئیے حضرت قطب صاحب اور بادشاہ قدم بوس ہو گئے۔ سرکار خواجہ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ تم نے مجھے کیوں یاد فرمایا ؟ حضرت قطب صاحب نے سارا ماجرا بیان کیا تو سرکار خواجہ نے اس عورت کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے بچے سچ سچ بتا تو کس کا بچہ ہے۔ بچہ فوراً اپنی ماں کے پیٹ سے بول اٹھا کہ میں ایک چرواہے کا بچہ ہوں۔ میری ماں نہایت بدکار عورت ہے۔ چنانچہ عورت نے بھی اعتراف کرکے معافی مانگی۔
پرتھوی راج اور حضرت خواجہ :۔
جب حضرت خواجہ اجمیر میں مقیم ہوئے اور وہاں آپ کی ذات بابرکت سے کرامتوں کا مسلسل ظہور ہونے لگا اور لوگ اسلام کی صداقت کے معترف ہونے لگے پرتھوی راج کی دفاعی کوششوں کے باوجود حضرت خواجہ کا اثر بڑھنے لگا تو پرتھوی راج دل سے حضرت خواجہ کا دشمن ہوگیا، جوگی جے پال کی ناکامی اور اس کے قبول اسلام کے بعد پرتھوی راج کی آتش عداوت تیز ہوگئی اور وہ حضرت خواجہ کو اجمیر سے نکالنے کا منصوبہ بنانے لگا جب وہ اپنے منصونے کو عملی شکل دینے کا ارداہ کرتا اندھا ہو جاتا اور جب باز آتا بینائی واپس آ جاتی اس کرامت کو بار بار دیکھنے کے باوجود بھی شرک و بُت پرستی کی ظلمت اس کے دل سے نہ نکل سکی بالآخر اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔
مجلس کرامات :۔
حضرت خواجہ ایک مجلس کا تذکرہ فرماتے ہیں جس میں خواجہ عثمان ہارونی خواجہ اوحدالدین کرمانی اور حضرت خواجہ بھی موجود تھے۔ گفتگو اس بارے میں شروع ہوئی کہ جو شخص بھی اس مجلس میں ہے وہ اپنی کرامت دکھائے یہ سنتے ہی خواجہ عثمان ہارونی نے مصلے کے نیچے ہاتھ ڈالا اور مٹھی بھر اشرفیاں نکال کر ایک درویش کے حوالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ درویشوں کے لئے حلوہ لے آؤ۔ شیخ اوحدالدین نے قریب ہی پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ہاتھ مارا تو فوراً وہ لکڑی سونا بن گئی۔ میں پیچھے رہ گیا جو پیر و مُرشد کی وجہ سے کوئی کرامت ظاہر نہیں کر سکتا تھا شیخ نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا تم کوئی کرامت کیوں نہیں دکھاتے ؟ اس مجلس میں ایک بھوکا درویش تھا جو شرم کی وجہ سے سوال نہیں کرتا تھا میں نے اپنی گدڑی میں سے جوکی چار روٹیاں نکالیں اور اس درویش کے حوالہ کر دیں۔
 رام دیو کا قبول اسلام :۔
جب حضرت خواجہ اجمیر میں اناساگر کے قریب مقیم ہوئے وہ انا ساگر جس کے گرد و نواح میں ہزاروں بُت خانے تھے جن پر سینکڑوں من تیل اور پھول صرف ہوتے صُبح و شام تک پرستاروں کا ہجوم رہا کرتا تھا۔ برہمنوں اور پرستارا صنام کو حضرت کا قیام ناگوار گزرا جب راجہ اور اہل شہر کی کثیر تعداد مندروں میں پُوجا کیلئے حاضر ہوئی پجاریوں کا سردار رام دیو (دوسری کتابوں میں شادی دیو آیا ہے) ایک جماعت کثیر کے ساتھ حضرت کی بارگاہ میں آیا تاکہ اس مرد درویش کو یہاں سے نکال دیا جائے لیکن حضرت خواجہ کے جمال باکمال پر نظر پڑتے ہی لوگوں کے جسموں پر لرزہ طاری ہو گیا۔ بید کی طرح کانپنے لگے۔ حضرت کی نگاہِ کرم کی تاثیر نے رام دیو کے دل کی کیفیت بدل دی بصد خلوص و عقیدت آگے بڑھا اور دستِ حق پرست پر اسلام قبول کرلیا۔ حضرت خواجہ نے اس کا نام شادی دیو رکھا۔ تلک عشرۃ کاملۃ یہ آپ کی دس کرامتیں مکمل ہوئیں ویسے تو آپ کی بے شمار کرامتیں ہیں اور الحمدللہ !! آج بھی آپ کی تربیت گہوارہء کرامت بنی ہوئی ہے۔
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تم پر

5.6.11

مولانا عبد الستار خان نیازی

ایم ایم اے کے ان لیڈروں میں تو کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنے کردار عمل اور اپنے اخلاص وشجاعت سے مولانا عبدالستار خان نیازی کا ہمسر و ثانی ثابت ہو سکتا ہو

مجاہد ملت میموریل سوسائٹی پاکستان نے 21جنوری 2007ء کو ہمدرد سنٹر غازی علم الدین شہید روڈ کے آڈیٹوریم میں تحریک قیام پاکستان کے دوران پنجاب اور خاص طور سے ضلع میانوالی میں اسلامیان برصغیر کے منتشر شیراز ے کو مجمتع کر کے قیام پاکستان کی تگ دو کرنے والے بیسویں صدی کے سب سے بڑے سیاستدان جناب قائداعظم کے پیغام کو عوام الناس اور عامتہ المسلمین تک پہنچا کر ہندو جماعتوں کے مقابل آل انڈیا مسلم لیگ کی کامیابی و کامرانی کے لئے شبانہ روز جدوجہد کرنے والے اپنے دور کے شعلہ جوالا مجاہد ملت مولانا مولانا عبد الستار خان نیازی کی یادوں کے فانوس درخشاں کرنے ان کے کردار اور اظہار کے انمٹ نقوش قدوم پر چلنے کا درس دینے کی خاطر مجاہد ملت کانفرنس منعقد کی ۔

جناب مجید نظامی نے مجاہد ملت میموریل سوسائٹی کی انتظامیہ کی خصوصی دعوت پر اس کانفرنس میں شرکت کی اور فرمایا کہ مولانا عبد الستار خاں نیازی میرے بڑے بھائی جناب حمید نظامی کے ہمدم دیرینہ ہوتے تھے چنانچہ اس ربط سے میں ان کو اپنا بڑا بھائی تصور کرتا تھا میں تقریر کے لئے نہیں آیا ان سے اظہار عقیدت کے لئے مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کر رہاہوں میں ان کے لئے دعا گوہوں ۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

دراصل مولانا عبد الستار خاں نیازی اور شہرہ آفاق اسلامی تاریخ ناول نگار اور ممتاز صحافی جناب نسیم حجازی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں بہ الفاظ قائداعظم فائر برینڈ حمید نظامی کے کلاس فیلو تھے اور بطور طالب علم وہ تینوں بڑی مدت تک ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر رہے ان میں بلا کی فکری یگانگت تھی چنانچہ تحریک قیام پاکستان کے دوران ان تینوں عالی دماغ نوجوانوں نے قیام پاکستان کے مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔جناب حمیمد نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پیلٹ فارم سے سارے پنجاب بلکہ سارے ہندو ستان کے مسلمان طلبہ کو متحدکر کے مسلم لیگ کے کاز کو آگے بڑھایا ۔


جناب نسیم حجازی نے بلوچسیان کے جاگیر داروں کو جمالی خانوادے کے ذریعے مسلم لیگ کی حمایت اور پاکستان کے قیام کے لیے پر جوش انداز میں کام کرنے پر آمادہ کیا۔ جمالی خانوادے سے تو ان کے اتنے گہرے تعلقات تھے کہ مراد خان جمالی تو نسیم حجازی کے اخبار کوہستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بھی رکن تھے اور اس اخبار کے دفتر میں آتے رہتے تھے وہ دفتر مصور پاکستان حضرت علامہ اقبال کی میکلورڈ روڈ والی کوٹھی کے پہلو میں یعنی رتن سینما اور پرانے صنوبر سینما کے درمیان واقع تھا۔ مولانا عبدالستار خاں نیازی بھی نسیم حجازی سے ملاقات کیلئے اس اخبار کے دفتر میں تشریف لاتے رہتے تھے ۔کیونکہ اس دفتر کے قریب لکمشی چوک کے ایک طرف واقع لکمشی مینشن میں انہوں نے اپنا قیام رکھا ہوا تھا ۔


1964ء کی گرمیوں میں جبکہ نواب امیر محمد خاںآف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے اور لوگوں پر ان کی بڑی دھمک اور دہشت طاری تھی۔ مولانا عبد الستار خاں نیازی ایک روز تین بجے سہ پہر نسیم حجازی سے ملاقات کیلئے آئے واپسی پر ان کیلئے تانگہ منگوایا گیا ابھی وہ تانگے کی اگلی نشت پر برا جمان ہوئے ہی تھے کہ کچھ غنڈوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ فوراً ہی اخبار کے لوگ ان کے تحفظ کے لئے دوڑ ے مگر ان کے پہنچنے تک غنڈے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ مجاہد ملت کی طرے دار پگ کھل گئی اور ستواں ناک کی ہڈی پر چوٹ آئی ۔ پورے شہر میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ گورنر نے عبد الستار نیازی پر غنڈوں کے ذریعے حملہ کر وایا دیا ہے ۔


اس سال پاکستان کے صدارتی انتخابات بھی تھے اپوزیشن لیڈروں نے جن میں چودھری محمد علی ، خواجہ ناظم الدین اور دیگر رہنما شامل تھے جب کو ئی مرد یہ بھاری پتھر اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوا تو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خاںکا مقابلہ کرنے کے لئے بطور صدارتی کینڈی ڈیٹ میدان میں اترنے پر راضی کر لیا۔ انہی دنوں مولانا ابوالاعلٰی مودودی نے موچی دروازے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اس وقت کوثر نیازی ابھی جماعت اسلامی میں تھے اور جلسے کی صدارت کر رہے تھے۔ کسی نے مولانا مودودی سے انکی تقریر کے دوران سوال کیا کہ آپ نے تو اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی خاتون کسی اسلامی ملک کی سربراہ نہیں ہوسکتی تو اب آپ مادر ملت کی حمایت کیوں کر رہے ہیں کیونکہ اگر مادر ملت صدارتی انتحابات میں کامیاب ہو گئیں تو وہ پاکستان کی سر براہ بن جائیں گیں تو آپ کا موقف کہاں جائے گا ؟ مولانا مودودی نے فرمایا کہ میں موقف پر تو قائم ہوں مگر اس معاملہ میں صورت یہ بن گئی ہے کہ ایک طرف ایک مرد ہے جس میں کوئی خوبی نیہں سوائے اس کے کہ وہ مرد ہے مگر دوسری طرف ایک دختر اسلام ہے جن میں کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک خاتون ہیں اس لئے ہم نے ایک نیکی کے مقابلے میں ایک بدی کا اور ایک شر کے مقابلہ میں خیر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔چنانچہ مولانا کی دلیل سے لوگ قطعاً مطمئن ہو گئے۔


چند روز کے بعد مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے لاہور کا ایک دورہ کیا اور گول باغ (موجودہ ناصر باغ ) میں جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا اسی جلسہ میں مادر ملت سے پہلے اظہار خیال کرنیوالوں میں مولانا عبد الستار خان نیازی بھی شامل تھے ۔ انہوں نے تقریر کے دوران اپنے بڑے بڑے کالے بوٹ اتارے اور فضا میں ان کی ایکڑیاں جوڑ کر ملک امیر محمد خان پر کڑی نکتی چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس کی اتنی (کالے بوٹوں جتنی ) بڑی بڑی مونچھیں ہیں اپنے باس ( ایوب خاں) جتنا زور لگالے اور دہشت پھیلا لے مگر پاکستان سے آمریت کا جنازہ اٹھ جائیگا اور جمہوریت قائم ہو جائیگی کیونکہ اگر انصاف سے انتخابات ہوئے تو مادر ملت بلا شبہ جیت جائیں گیں اور ایوب خاں کو شکست فاش ہو گی اس وقت سامعین مجاہد ملت کی جرات اظہا ر اور شجاعت کردار پر عش عش کراٹھے ۔


اور آج کے جلسہ میں بھی مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، علامہ ریاض حسین شاہ، صاحبزادہ فضل کریم، اور دیگر متعدد مقررین نے مولانا عبد الستار خان نیازی کو دلی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا عبد الستار خان نیازی کے مشن کی تکمیل کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائیگی ۔ آج کے اس جلسے میں متحدہ مجلس عمل کے چال چلن پر کڑی نکتہ چینی کی گئی اور اس کے ان رہنمائوں کو بڑی شدت سے ہدف تنقید بنایا گیا جو قوم کے سامنے ایک مدت تک اعلان کرتے رہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہو جائیں گئے مگر نا قابل قبول حقوق نسواں بل پارلیمنٹ سے منظور ہو کر ایکٹ بن جانے کے بعد بھی اقتدار سے چمٹے رہنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں اپنے اقتدار سے زیادہ حدود اللہ کا تحفظ کرنا چاہیے، مگر ایم ایم اے کے ان لیڈروں میں تو کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنے کردار عمل اور اپنے اخلاص وشجاعت سے مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کا ہمسر و ثانی ثابت ہو سکتا ہو ۔

بشکریہ: نوائے وقت
تحریر: علامہ چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ

31.5.11

آئین پاکستان میں قانون رسالت کیا ہے؟


آئین پاکستان میں قانون رسالت کیا ہے؟
 
  
  پالستان پینل کوڈp.p.c کے قانون۲۹۵ کے تین سیکشنز ہیں
A,B,C
اس میںسیکشن کے A  مطابق کسی مذہب یا کسی گروہ کے عقائد کو دانستہ برا بھلا کہنا جرم ہے۔ 
سیکشن کے B  مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی یا شہید کرنا اس سیکشن میں شامل ہے۔  
سیکشن کے C مطابق حضورﷺ کی شان میں گستاخی،یعنی توہین رسالت اس میں گستاخی شان میں  تحریری،تقریری سمیت تمام انداز شامل ہیں۔ 


قانون میں ہر سیکشن کے حوالے سے باقاعدہ علیحدہ علیحدہ سزا ئیں مقرر ہیں۔ جیسے سیکشن Aکے مطابق کسی کے مذہب یا مزہبی عقائد کو جان بوجھکر برا بھلا کہنے اور اس کے نتیجے میںلوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سزا دس سال قید با مشقت اور جرمانہ ہے۔جس کا تعین حالات کے مطابق اور دیگر شواہد کو مد نظررکھکر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید کی بے حرمتی، شہید کرنا یعنی سیکشنB میں قرآن پاک کی بے حرمتی خواہ کسی بھی انداز سے کی گئی ہو۔اس کے لیے عمر قید کی سزا رکھی گئی ہے
۔جبکہ سیکشن ۔Cکے مطابق نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی بھی انداز مین گستاخی پر ملزم کے لیے سزائے موت اور عمر قیدے علاوہ جرمانہ
 عائد کرنے کی سزا مقرر کی گئی ہے
 توہین رسالت سے بڑا دنیا میں کوئی فساد نہیں توہین رسالت ایکٹ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے نام نہاد دانشور فتنہ و فساد پھیلا رہے ہیں ، شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی سزا موت اللہ کی مقرر کردہ حد ہے جسے صدر، پارلیمنٹ یا کوئی اور معاف نہیں کر سکتا، توہین رسالت کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی سے حکمرانوں کو شئہ مل رہی ہے، توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو غازی علم دین شہید کا قانون چلے گا، تحریک حرمت رسول ﷺ پورے ملک میں جلسوں، مظاہروں اور حرمت رسول ﷺ کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رکھے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اہلسنت کے بزرگ اور ممتاز عالم دین مفتی محمد خان قادری کے دینی ادارہ جامعہ اسلامیہ میں تحریک حرمت رسول ﷺ کے اجلاس کے دوران کیا تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مفتی محمد خان قادری، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک ، ڈاکٹر حافظ محمد عاکف سعید ، علامہ احمد علی قصوری ، علامہ زبیر احمد ظہیر ، قاری محمد یعقوب شیخ ، جسٹس (ر)نذیر احمد غازی ، قاری محمد رفیق ، مرزا ایوب بیگ ، محمد خلیل الرحمن قادری ، ملک محبوب الرسول قادری ،مولانا محمد امین، الطاف حسین گوندل و دیگر نے شرکت کی اجلاس کے دوران مولانا امیر حمزہ کی طرف سے قرآن و سنت کی روشنی میں گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل کے حوالہ سے لکھا گیا مقالہ خصوصی پیش کیا گیا جس میں پیش کئے گئے شرعی دلائل کی تمام علمائے کرام اور قائدین نے تائید کی اجلاس کے دوران متفقہ طور پر قرار دیا گیا کہ تحفظ ناموس رسا لت کے قانون میں کسی طرح کی تبدیلی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا ہے اور پو ری امت اس پر متفق ہے اس موقع پر تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علمائے کرام نے شان رسالت میں گستاخی کو اللہ کی مقرر کردہ حد قرار دیا ہے اور حد کو کوئی بھی معاف نہیں کر سکتا آج تک جتنے بھی گستاخ آئے کوئی بھی اپنے انجام سے نہیں بچ سکابلکہ دنیا کے لئے عبرت بنا ہے عوام الناس میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے انہوں نے کہا توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے پوری پاکستانی قوم تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لئے کٹ مرنے کو تیار ہے جماعت اہلسنت کے بزرگ عالم دین مفتی محمد خان قادری نے کہاکہ اہل علم کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ اس جرم کے مرتکب کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت سے ہو برابری کی بنیاد پر سزا پائے گا اور کسی فسا د فی الارض کی اجازت نہیں دی جا سکتی سیاسی جماعتیں ا س مسئلہ پر جس قدر غفلت اور عدم توجہ کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لے کر اپنے حصے کا کردار ادا کریں ورنہ عوام میں ان کا داخلہ بند ہو جائے گاتنظیم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حافظ محمد عاکف سعید نے کہاکہ جن کی نیت میں کھوٹ نہیں ان طبقات کو 295 سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ قانون نا انصافی کا راستہ روکنے کا ضابطہ ہے اگر اس کو غیر موثر بنایا گیا تو پھر معاشرے میں غازی علم دین شہید کا قانون حرکت میں آجائے گا جسے کوئی نہیں روک سکے گا توہین رسالت ایکٹ کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہنے والے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے مرکز اہلسنت کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری نے کہاکہ نام نہاد غامدی جیسے دانشور فسادی ہیں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے سینے چھلنی کرنے پر فساد کا اطلاق ہوگا اقلیتوں کے حقوق کا جتنا تحفظ اسلام نے کیا اتنا کسی نے بھی نہیںکیا حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر علماءکو تمام چینلوں پر کردارادا کرنا ہوگا جسٹس(ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ 1994ءمیں لاہو ر ہائی کورٹ کا فل بینچ اس بات کا فیصلہ دے چکا ہے کہ توہین رسالت کا قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم نہیں ہے اور اس عدالتی فیصلے کو اب تک کسی نے چیلنچ نہیں کیا وفاقی شرعی عدالت نے توہین رسالت کی سزا موت سنائی ہے اب اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ میں جا کر اس فیصلے کو چیلنج کرے نہ کہ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑائے انہو ںنے کہا کہ ہماری حکومت توہین رسالت ایکٹ بدلنے کی پوزیشن میں نہیں سیاسی جماعتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے قادیانی لابی سازشوں کے ذریعے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے انہو ں نے کہا کہ حکومت کو مضبوط پیغام جانا چاہیے کہ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر امت مسلمہ متحد ہے توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم یا تبدیلی کی تمام سازشوںکو ناکام بنایا جائے گاتحریک حرمت رسول ﷺ کے چیف کوآرڈینیٹر قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ گستاخ رسول ﷺ کا اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا موت ہے اقرار جرم اور گواہی کے بعد کسی بھی قسم کی ترمیم کی گنجائش نہیں انہوںنے کہا کہ پادری بھی توہین رسالت کے قانون کو تسلیم کر رہے ہیں اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سزا نافذ کی جائے اگر حکومت ایسا نہیں کرے گی چور دروازے سے اغیار کی آشیر باد حاصل کرنے کیلئے گستاخوں کو معافی دی جائےگی تو پھر امن و امان قائم نہیں ہو سکتامرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ گستاخی رسول کی سزا موت ہے میڈیا پر اس کو مدلل بیان کیا جانا چاہئے تا کہ عوام کے ذہنوں میں ڈالے جانے والے اشکالات دور ہو سکیںانٹر نیشنل ختم نبوت کے قاری محمد رفیق نے کہا کہ جب حدود اللہ ثابت ہو جاتی ہے تو معافی کا اختیار کسی کو نہیں ملتا گستاخ رسول ﷺ کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی سزا موت ہے تو پاکستان میں نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا موت پر کیوں شور مچایا جا رہا ہے تنظیم اسلامی کے مرزا ایوب بیگ نے کہا کہ توہین رسالت ایکٹ میں تبدیلی یا ترمیم جذباتی لوگوں کو کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے اس سے گستاخیوں کو ایک فیشن بنا لیا جائے گا اگر عام جرائم کی سزا میں معافی نہیں ہے تو گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر اتنا واویلا کیوں کیا جا رہا ہے صفہ اسلامک سنٹر کے محمد امین نے کہا کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں سنت اور اجماع سے بھی دلائل پیش کرنے چاہئیں کہ اس مسئلہ پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں توہین رسالت ایکٹ میں تبدیلی یا ترمیم کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے آئینی ماہرین سے بھی رابطے کرنے ہوں گے دریں اثناءتحریک حرمت رسول ﷺ کے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہاگیا ہے کہ توہین رسالت ایکٹ کے مخالفین قادیانی اور قادیانی نواز ہیں جو مختلف حیلوں بہانوں سے اس قانون کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی عدلیہ کے سابق فیصلوں کو پیش نظر رکھا جائے کسی بھی قانون کو غلط استعمال کرنے والے کے لئے سزائیں موجود ہیں حتی کہ سزائے موت کے بعد بھی اگر ثابت ہو جائے کہ فیصلہ انصاف کے منافی تھا اور اس کا سبب جھوٹا مقدمہ تھا تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 194کے تحت جھوٹے مدعی کے لیے موت کی سزا متعین ہے اس لئے ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون کو غیر موثر بنانے کے تمام حیلے اور بہانے مسترد کیے جاتے ہیں ۔

جھوٹے مدعیان نبوت   عن  ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال لا تقوم الساعۃ حتٰی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول ...